فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 26
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں؟ فرمایا:۔ 26 "مصدقین کے سواکسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔" ہوئی۔ " عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واف سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں فرمایا:۔ ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب ۔" عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔ فرمایا:۔ " تم خدا کے بنو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔" فرمایا:۔ الحکم نمبر 35 جلد 5 مؤرخہ 24 ستمبر 1901ء صفحه (6) " کلام الہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر یا حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسروں فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا ۔ پس تم ایسا ہی کرو ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط وجائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ایک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر یک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہر