فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 18

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 18 انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتار ہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کر لیں۔ خدا کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔ پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے۔ اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا یہ تو دین ہرگز نہیں ۔ یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے فَاذْكُرُوْ نِي اذْكُرْ كُمْ وَاشْكُرُ وَلِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ (البقرہ: 153) یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو۔ میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے۔ پس جو دم غافل وہ دم کا فر والی صاف بات ہے۔ یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہوئے ہیں۔ ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہئے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہئے ۔ اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔ اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔ سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی ۔ پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے ہے اس کے اسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔" الحکم نمبر 12 جلد 7 مؤرخہ 31 مارچ 1903 صفحہ 8,7) (۱۸) جو تارک نماز ہے وہ تارک ایمان ہے فرمایا:۔