فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 17
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 17 ایک شخص اپنا مضمون اشتہار در بارہ طاعون سنارہا تھا اذان ہونے لگی وہ چپ ہو گیا۔ فرمایا:۔ " پڑھتے جاؤ اذان کے وقت پڑھنا جائز ہے۔" الحکم نمبر 15 جلد 6 مورخہ 24 اپریل 1902 صفحه (8) (۱۶) بچہ کے کان میں اذان دینا سوال : حکیم محمد عمر صاحب نے فیروز پور سے دریافت کیا کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو مسلمان اس کے کان میں اذان کہتے ہیں ، کیا یہ امر شریعت کے مطابق ہے یا صرف ایک رسم ہے؟ جواب:۔ فرمایا " یہ امر حدیث سے ثابت ہے اور نیز اس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔ لہذا یہ رسم اچھی ہے اور جائز ہے۔" اخبار بدر نمبر 13 جلد 6 مؤرخہ 28 مارچ 1907 ء صفحہ 4 (۱۷) نماز میں کسالت ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے؟ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔ " نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آ میں آیا ہے کہ آنحضرت علیه السلام کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرمادی جاوے کیونکہ ہم کا روباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا ۔ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں ۔ نماز کیا ہے یہی کہ اپنے عجز نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال نذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا اس سے اپنی حاجات کا مانگنا۔ یہی نماز ہے۔ ایک سائل کی طرح کبھی اُس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔ اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔ پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔