فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 272

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 272 کا ہوتا ہے ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں یعنی گھروں کے گرد طواف کرتے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کیلئے اور چوکیدار ان گھروں کی حفاظت اور بچاؤ اور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔ یہی حال مسیح اور دجال کے طواف کا ہے دجال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خدا کی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لوٹ لیا جاوے۔ مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اسے پکڑے اور مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین وایمان کے متاع کو بچاوے۔ غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجال سے ہو رہا ہے۔" فرمایا:۔ الحکم نمبر 9 جلد 7 مؤرخہ 10 مارچ 1903 ء صفحہ 13) (۳۶۵) صدقہ اور ہدیہ میں فرق " صدقہ میں رد بلا ملحوظ ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس کے عملدرآمد میں انسان اللہ تعالیٰ کو صدق وفاد کھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہر یہ ہدایت سے نکلا ہو کہ آپس میں محبت بڑھے۔" ( اخبار بدر نمبر 15 جلد 2 مؤرخہ یکم مئی 1903ء صفحہ (115) (۳۶۶) فاتحه خوانی ایک صاحب نے عرض کی کہ میرا اللہ تعالیٰ سے معاہدہ تھا کہ جب میں ملازم ہوں گا تو اپنی تنخواہ میں سے آدھ آ نہ فی روپیہ نکال کر اللہ کے نام دیا کروں گا اسی لئے جو کچھ اب مجھے ملتا ہے اسی حساب ا ہے اسی حساب سے نکال کر کھانا وغیرہ پکا کر اس پر ختم اور فاتحہ وغیرہ پڑھوا دی جاتی ہے۔ حضور کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔ فرمایا کہ:۔ " مساکین وغیرہ کی پرورش کر دینی چاہئے یا اور کسی مقام پر ۔ مگر فاتحہ خوانی کرانی یہ تو ایک بدعت ہے اسے نہ کرنی چاہئے ۔ " ( اخبار بدر نمبر 11 جلد 2 مورخہ 3 را پریل 1903ء صفحہ (83)