فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 271
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 271 فرمایا:۔ (۳۶۳) حج " حج میں قبولیت ہو کیونکر؟ جب کہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں۔ ان کو تو ادا کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا - فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور آداب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں ۔ " بدل حج فرمایا کہ:۔ " الحکم نمبر 33 جلد 9 مورخہ 24 ستمبر 1905ء صفحه (9) " دعا کا اثر ثابت ہے یا ایک روایت میں ہے کہ اگر میت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔" ایک شخص نے عرض کی کہ حضور یہ جو ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی۔ فرمایا کہ:۔ " اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا کے بجائے اهْدِنِي ہوتا۔" اخبار بدر نمبر 15 جلد 2 مؤرخہ یکم مئی 1903 ء صفحہ (115) (۳۶۴) خدمت دین بھی ایک طرح حج ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کرنے کو گئے ہوئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے۔ فرمایا:۔ " اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے۔ حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں ۔ آنحضرت علیم اللہ نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ وسلم دجال اور مسیح موعود ا کٹھے طواف کر رہے ہیں ۔ اصل میں طواف کے معنی ہیں پھر نا تو طواف دو ہی طرح