فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 109
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ:۔ " 109 یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جاتا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون زدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے خواہ مخواہ تداخل جائز نہیں ہے خدا فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو اگر چاہے گا تو ان کو خود دوست بنا دے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے۔ خدا نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلایا ہے مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنے حصہ ایمان کا بھی گواؤ گے۔" ( اخبار بدر نمبر 17 جلد 2 مؤرخہ 15 مئی 1903 ء صفحه (130) (۱۳۷) اُجرت پر امام صلوٰہ ٹھہرانا ایک مخلص اور معزز خادم نے عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی وہاں جو امام ہے اس کو کچھ معاوضہ وہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آباد ر ہے وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں ۔ میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے۔ اب کیا کیا جاوے؟ فرمایا:۔ " خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کیلئے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ نماز تو خدا کیلئے ہے۔ اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کیلئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی ۔ امام اتقی ہونا چاہئے ۔ " فرمایا:۔ الحکم نمبر 39 جلد 9 مورخہ 10 نومبر 1905 ء صفحہ 6 (۱۳۸) رمضان میں تراویح کیلئے حافظ مقرر کرنا بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں یہ درست نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز ہے۔" الحکم نمبر 39 جلد 9 مورخہ 10 رنومبر 1905ء صفحه (6)