فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 108

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جواب:۔ "ہر گز نہیں۔" 108 سوال: - قرآن شریف میں جو آیا ہے کہ خدا کی راہ میں جو مارے گئے تم ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں ؟ جواب:۔ " اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تمہاری آواز بھی سنتے ہیں ۔ بٹالہ میں جو لوگ زندہ موجود ہیں کیا تم اگر ان کو یہاں سے بلاؤ تو آواز دیویں گے ہرگز نہیں ۔ اگر مردہ کو آواز دو تو وہ بھی جواب نہ دے گا معلوم ہوا وہ بھی نہیں سنتا۔ بغداد میں جا کر شیخ عبد القادر صاحب کے مزار پر آواز دے کر دیکھ لو کیا جواب دیتے ہیں ؟ ہاں خدا کو کامل ایمان کے ساتھ بلاؤ تو وہ جواب دے گا ۔ اگر قبروں میں پڑے ہوئے مردے بھی سنتے ہیں تو بلا کر دکھاؤ۔" سوال:۔ خدا جو فرماتا ہے کہ وہ زندہ ہیں؟ جواب:۔ "اگر زندہ کہتا ہے تو اپنے نزدیک کہتا ہے نہ کہ ہمارے تمہارے نزدیک ۔ اور زندگی میں یہ کوئی امر لازمی نہیں ہے کہ قوت سماع اور حاضر ناظر ہونا ان کا ثابت ہو ہم زندہ ہیں لیکن لاہور کی آواز ہو نہیں سن سکتے اگر وہ بھی اس طرح حاضر ناصر اور دعا کے سننے والے اور مرادوں کو پورا کرنے والے ہیں تو خدا اور ان میں فرق کیا ہوا ۔ جائے شرم ہے کیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ شیخ عبد القادر سے کم ہیں جو یہ فضیلت صرف شیخ صاحب کیلئے تجویز کی جاتی ہے یا ابو بکر یا عمر کیوں نہیں کہتے ۔ ایک کی تخصیص تو مشرک بنا دیتی ہے۔ دنیا میں اسلام اس لئے آیا ہے کہ توحید پھیلا دے۔ اگر شیخ عبدالقادر کو قرب حاصل ہوا تو توحید سے ہوا اگر وہ غیر اللہ کو پکارنے والے ہوتے تو مقام قرب سے گرائے جاتے انہوں نے کامل اطاعت کی تو درجہ پایا۔" اخبار بدر نمبر 11 جلد 3 مؤرخہ 16 مارچ 1904 ء صفحه (5) الحکم نمبر 8 جلد 8 مورخہ 10 مارچ 1904 ء صفحہ 12) (۱۳۶) نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ایک صاحب نے پوچھا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثر مخالف مکذب مرتے ہیں ان کا