First Grain of Sand — Page 200
184 قیر FIRST GRAIN OF SAND انید مشتری اوران داران در 039 القصر ال الجميل عالية العاليه ای را داری کی اور پوری نہیں ادہ تولہ بھی دیتی تھی۔ میرے اس دور نے حکومت کے اندر حریت کی عظیم الشان حرکت پیدا کر دی۔ اور الزایک کثر حصہ میک قتل اور ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ ایک ماں کو پیدا کرتے بچے کے رد میری اور کو شہد سے روانہ ہوا۔ اور موارد مبر کو گم ہو جانے پر میں قدر اضطراب اور بے چین ہو سکتی ہے۔ اس آدمی رات کے وقت ایران کے اس این کوختم کرتا ہوا ان کا اسلام کرنے کے پورے ارادے کر چکا تھا۔ تو حکومت کے اندر ایک یوم میشینه کاویان در امانت و اونو میں اللہ سے بہت ہی پر منہ کواپنے اس کام کے متلی ہے تاریکی میں امی ابو سے نزدیک ہے ہونا اور اس شاکری سافینا یقینا خدا کی قسم احمدیت کو قبول کرتا گیا۔ اسی دریا احمدیت کے ایکس فروش انسان الم ہیں رہ نتھی کر دیتے ان کے نرم پتہ ہونے کا علم ہوا۔ اسی بوقت غریب جگر میں تمہارا جائے کہ ملک کے چار اور کالی ہیں چاشقند کے قید تھانہ میں خصوصیت سے اور حاجت کے نگرد الت حضور نے بار جی اپنی کلان بارد سردار ہوں اور کمار کہتے گا۔ تو یک موسی بن کر آیا۔ جام نے اپنے اتریں ہیں با ہے کیوں میں آیا۔ وہ نہ ملا۔ جب تک کہ اس نے احمدیت کو قبول نہ ھو گیا مصروفیتوں کے کوئی ریکی کے لئے ہے ملکہ شش درمان استودیا اور مری کاشی نیکو جھکو قید خانہ میں میں ہوا۔ وہاں سے مشق آباد یہ لوگ تقریباً چالیس کے قریب تھے بھی ہمیں بہت گرانٹ بند کہ اس ایکس میں کہا گیا۔ میری ان سے ہر بار ہیں یا اور جشن آباد سے اشتند اور اشتنہ سے ماسکو میں لیجایا گیا۔ مخلص تھے۔ اور وجیہ کی تھے۔ میرے اور بیان لینے والا ابہ کرام کو تو علم ہوا ہے کہ رانی کی میں جا کر کیا ہی نہیں ہیں بابا کے مجھے کا۔ میں نے کی املا کر اللہ کر کے نیستے، اس کے ایک تعلیمی کے درمیان ایک مترجم ترک تھا۔ ہونا ہی سے وہ ہی میں ہے ماہ میں تلخ احمدیت کے لئے ایران کی طرف رودادن گورنٹ ان کے ایک میں تحقیقات کے بعد مولوی مامی کا نہیں جو ایران کی سر ہے پہنایا گیا۔ میرے تا ہے تو ان کا رویہ کرتا ۔ دو باریک بیان لئے جانے کے بعد اس سے احمدیت کہے تھے۔ ایک طویل عرصہ تک عدم پنے رہنے کے بعد کھا کھایا اور پھر روسی اور نیٹ سے بولار سایت آکے ان کو وہیں میں مصیبت ولم میں کئی کئی دیے جاتے اور پیار سے رکھا اور کو قبول کر لیا۔ اور حضرت اقدام کی ایک اور کتب کا اردکی اپس آگئے ہیں، لیکن بھی نظرمیں یہ علم نہیں ہوا کہ مولوی باب ہیں گورینٹ آف انڈیا کے بہت معنون کیا کہ میں نے متحار الر مالی با یک قید خانے کے تاریک کمروں میں کئی کئی راتیں زبان میں ترجمہ کیاکہ حضرت کے اخلاقی و تعلیم سے عام لوگ موضوفت نے اس عرصہ میں اسلام کی خاطر کسی قدر جان شاری ہمارے ایک بھائی کا چہ مجھانے کے لئے اپنے بہترین ذرائع جاگ کر اس کا چہر نے گوارا ہے۔ بہت جو ناک اور جنگ دل سے کو علم ہوسکے۔ اور حضور کی ہدایات کا بھی۔ اسی زبان میں ترجمہ اور سرفروشی دکھائی کیے جسے مصائب اور شکلات ان پہا کی معلومات استعال کئے اور ایک بے گنا دائیں سے یہاں تنگ دل کو دم کرتے رہا ہے۔ جن لوگوں نے میری یہ حالتیں یا اور اسی طرح سے رومیوں کے اند ر حضرت انقدی کی تلوریم نہیں انہوں نے مردان داری داشت کی کہیں کہیں سنی دالم کیا ہونے میں کامیاب کوشش کی ہے۔ تی میں دیکھی ہیں۔ بینا یقیت ان کو کبھی دھوا ہیں میرے آنا ایک گھریاں ان پر گشتیں ، جن میں ان کے عزم و استقلال می بالا مولوی صاحب کا مختصر سا تھا جو قرین میں اور کیا جانا حکومت کیا ان پید ترین روسو کا بھی جن کے ظلم وستم کا نشانہ اے میرے آنا ماریا سے ما یک نموں میں بر صوت می باشند فرق نہ آیا کیسے کیسے مظالم اور شاعر این پرتوڑے گئے مگر ہے۔ جہاں رنج والم اور مصائب و مشکلات کی دردانگیز افغانستان کی دین کے اندر مولودی سمت امر خان ہوائے اور جو تیرے شانے جیکا میں یکے میں اور ساتھ کے اور سامنے کے کردن ان کے دل کی نیکشت اور دورے کا آرام ان سے کوئی در چین کا داستان ہے۔ ماں اپنے آنا اور مطلع کے ساتھ اخلاص خون کی پیاسی اور میرے قتل کی رات دان تفکرمیں نہیں ہیں صورت میں کمی یا سوسن کی چھال کے لئے لائے گئے اور جیب و موی تو میرے اس کے متعلق متصل حالات تو پھر کبھی وقت شائع اور محبت کی بھی بہترین مثال ہے۔ خدا تعالی ہماری جماعت بہت بڑا تھا۔ جن کے باعث ہی کو سخت ڈانٹا گیا۔ سخت کھنے میں تھے اور ایک وقت مجھ سے اخلاص اور محب سے پیش آئے کئے جائے گے جن کے مل کر دینے کام روی ما دیتے ، اور کیا کے ہر ایک فرد کو سیاسی اسلامی بیٹے اور دین کی دوری کے بے چین سے رہ گیا اس کا باری کیا گیا جو ہو سکیں ان کا ریکی نے اس قدر آگئے کیسے پاس بیٹی یا کام کرنا ہے تے موجہ ہے۔ اس وقت ان کا وہ خطہ درج کیا جاتا ہے۔ جو انہوں نے اسے ہر قسم کی حمایت اور مشکلات برداشت کرنے کی توفیق اسے کمروں میں اسے ری پناہ پیا گیا۔ کھانے میں ہر مجھ کو دی لای پارکت خیال کرنے لگے۔ ایسے وقت میں حضور کی معاشی اور تور ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکہتے ہی کراچی سے اپنے معارج جب کتاب جاری جماعت میں کلات کے ساتھ ایسے جہان شاہ محلی کئی دن سور کا گوشت میرے کھانے کے لئے لایا جانا نا چیکو اور کو بخش تھی، جولا بنز کی پشت کو مضبوط کرتی، اور مجیب و لیان مطمین بیا لئے مسن نہیں جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا اور آقا حضرت خلیق ایسے مالی ایدہ اور تعالی کی فراس اندی انتہا کار پیدا نہ ہوں گے۔ جو دین کی خاطر ہر ایک تحمیت راستوں سے بولا گیا۔ کئی کئی راتیں میرا بیان ہوتا رہا ہو گی یا تھی۔ السلام - میں اگیا۔ اور میں میں اختصار کے ساتھ ان مواقعات کا ذکر کیا اٹھانے کے لئے آمادہ ہوں اور کسی قسم کے طرف داخلی قید کے کرو کے اندر ہی بختی طریق سے قتل کرنے کے جو چاہئے۔ جنور کا ناچیز خادم نمی چنین مبلغ از گرامی نه ہے جوانہیں امی جان جوکوں کے سفرمی نہیں آئے کو خاطری اتے ہوئے اکران عالمی میں بایں اور ان کے کسی ان ان ان او را می اید و یکی از بین اصحاب کے مولوی صار کے قدم بہتر ہو نے مجے ایام مکہ ہم وہ مبارک گھڑی نہیں دیکھ سکے جس کے متعلق ایک پر ایسی ای او می بود این کوچه که ردی و ترکتان کو میں حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالی کی زبان مبارک سے کے برگزیدہ کے برگزیدہ حضرت میں موجود فی الصلوة والسلام کا ہے فریت ان کی زمین میں حضور کے امرانی اسلام کو خون کا حریت کی تخم ریزی ان کا ذکر سنتے کا موقع ہار ہے، وہ جانتے ہیں کہ حضور کے ارشاد ہے کہ ایک وقت آئے گا۔ جب ساری دنیا میں حریت ک لئے گرایا جائے گا۔ اور میرے کہنے کی کوئی امید نہ رہا کے معاصر پیر پنجاب انار تخمیر مسجد احمدیه انسان کا ذکر کرتام وا میں اپنے اس کا ہار پر روش فارم کے متلی میں تھے ہی اور ہوا اور ای وای ای در این مائی ہے تم نے ایک بیان کو صدر کے نا نام دیا اور تیری است ت ہے۔ بے چینی اور اضطراب پایا جاتا تھا۔ اور حضور ان کا پتر جائے مولوی صاحب کا ملا جب ایل ہے۔ قبول کر چاہتا ہو کے گوندا کے واسطہ دیتا ہوں۔ قادیان میں ا امام ما یا ان کے پیرووں کی تعداد اگر یہ میرے آقا حضرت الیون میں ایک اللہ تیرہ العرفی ماریہ سے آتا ہے کہ دیا کہ محمد کی ایک عاشقی رضا میں کے نہایت نہیں ہے لیکن من قریب ہے کہ مذہبی جوش دا د لو تو کی اور کوششوں کے سوتے دا وان و یا یا کہ اور کھرا ہوا بھائی اسلام علیکم ورحمہ اصل و برکات ۔ میرے چاہنے آقا میری جان کے ان سے ملتے ہیں احدیت کا خیر تھا۔ ترکستان کی زمین میں ہندوستان کی کوئی قوم ان کا مقابلہ بلیس کو تھیں۔ ان لعالمین اور مصائب کی تین طاروں میں سے تھا ہوا اور خطرات میں آپ پر شار ہوں حضور کا اولی ترین تمام فری جبرات میں شہید ہو گئی ہے، اس کی آخری کو از قتل کہتے وقت ہی تھی مات نہ ان جیسے شہر میں اپنی طاقت سے زیادہ حریت اور ان کے دریا ان کو چیرتا ہوا ساحل مواد پر ہی کیا اور ان سے ان ابو اکتوبر ستاد کو ایک سال ماه روسی ترکستان کا نام دینے کا آئین یہ مقدری کا ملی نشان ہے۔ جو نوب کی کر کے حال ہی میں ایک محمد تبر کرد اتی ہیں میں لندن مجھے کی ازین میں قید رہ کر اللہ تعالی کے محن مقتل را حسان اور مادی میں ظاہر ہوا اورین ا ا ور اس زمانہ میں پنجاب کے ایک تاریان انگریز و هندوستانی مسلمان نماز و گیره مدریسی فراهی بازار کے لئے کتنے مفکر تھے۔ املی خدا اقبال نے محصور کی دکانوں مجاری صاحب موصوف خدا تعالی کی مصلحت کے باسخت حضور کی دا حضور کی دعاؤں میں تین حضور کی وجہ سے کام ان کا یت ہی کیا کیا امامی را اعلام ان سے بار اس کے کی میں ہے کیا کر ہے ۔ مین شکلات میں پیش کئے تھے۔ مظا ہر حالات ان سے بنانے کے آتا اے سی کی پناہ میں میں ہے کسی بیماری کی علی کے اللہ فقہ میں قتل ہو تے وقت میں نہیں آیا کی سنی وہ ے لوگ ہماری انہیں کو شوں اور سرگرمیوں کو تھا اکتانم پانیا قطرات من تھا لیکن حضرت تحلیل امین بانی معدہ اور قال حالت میں تہنا بنیا پورٹ لینے کے دسمبر کے مہینے میں یکے جی اللہ کا ر بانی فرزند برین تھا ہے۔ خیال کریں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس مقصد اور مریا کی سیر پیا نے جہاں اپنی خاصی دعاؤں میں انہیں خصوصیت سے یاد رکھا۔ راستے برات کے باعث سفید ہو گئے تھے جب سے بچانا میرے آقا میرے جسم کے اندور معلوم کی یاد میروں میں کیا جماعت کے ای ہوتی ہے ۔ اور جو یہ ہے کہ ساری دنیا میں Al-Fazl newspaper's publication on 16 November, 1926, which includes the full text of Maulawi Zahoor Hussain's letter to Hazrat Khalifatul-Masih IIra from Karachi. Translation can be found on next page