فقہ المسیح — Page 454
فقه المسيح 454 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے ہوا ہے ۔ اگر اس نے اس نیت سے باجا بھجوایا تو یہ ایک اعلان کی صورت ہو جائے گی۔ اس میں بھی نا جائز کا سوال اُٹھ گیا۔ (سیرۃ المہدی جلد 2 صفحہ (321) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں سوال کیا کہ شادیوں کے موقع پر اکثر لوگ با جا، آتش بازی ، وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں ۔اس کے متعلق شرعی فیصلہ کیا ہے؟ فرمایا: ” آتش بازی تو جائز نہیں ۔ یہ ایک نقصان رساں فعل ہے اور با جا کا بغرض تشہیر نکاح جواز ہے۔ سکھوں اور ہندوؤں کا اذان دلوانا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ (268) اخبار البدر نے لکھا : آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوؤں کے گاؤں میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذان نماز بڑے زور اور کثرت سے ہر ایک گھر میں دلائی جاتی ہے اس کی نسبت ایک شخص نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ فعل کیسا ہے؟ فرمایا: اذان سراسر اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے ہمیں تو حضرت علیؓ کا جواب یاد آتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ میں اس اَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق: 11،10) کا مصداق ہونا نہیں چاہتا۔ ہمارے نزدیک بانگ میں بڑی شوکت ہے اور اس کے دلوانے میں حرج نہیں ( حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے۔) سونے، چاندی اور ریشم کا استعمال (البدر یکم مئی 1903ء صفحہ 116 ) عرض کی گئی کہ چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کئے جاویں؟ فرمایا: