دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 54
۵۴ رکتی با افت از امام یافت | اہرنے کو تنفت الالام بافت جس کسی تھے خدا کو پایا العام سے پایا۔ ہر ایک چہرہ جو چھکا وہ السلام سے چمکا تو نہ اہل محبت دین سبب از کلام باری داری بحب سبد از دارد تو جنت کے کوچہ کا واقف نہیں اس لیے کلام یار پر تعجب کرتا ہے کا یار پر ہے عشق سے خواہد کلام یار | رو به پرس از عاشق این اسرار عشق تو دوست کے کے کلام کو چاہتا سے اس راز کو پوچھ است این نگو که در گش دوریم با ربط او با مشت خاک ما کجا یہ دو کہ کہ چونکہ ہم اس کی درگاہ سے دور ہیں اس لیے اس کا تعلق ہماری مشت خاک سے نہیں ہو سکتا وانده آن مرد یک روشن جہاں بود | لیس طلب در فطرت انسان بود اس بات کو وہی جانتا ہے تو روشن ضمیر ہے کہ خدا کی طلب انسان کی فطرت میں داخل ہے اول نے گیرو تسلی جرد خدا | این چنین افتاد فطرت نا بتا عدد کے بغیر انسان کا دل تستلی تھیں پاتا ۔ ابتدا سے آدمی کی بھی فطرت ہے ول ندارد صبر از قول نگاری کاشتند این تخم از آغاز کار محجوب کے کلام کے سوراول کو صبر تھیں آنکہ ازل سے خدا نے یہ بیچ راس کی فطرت ہیں بویا ہے آنکه انسان به اپنی فطرت بدارد چون کمال قطر تنش دادے بیاد وہ خدا جس نے انسان کو ایسی فطرت دو سو کسی طرح اس کی فطرت کے اس کمالی کو برباد کر دنیا کے کاری کے ان نشر گردو اور کے شود از کر کے کا ہو خدا خدا کا کام انسان سے کیونکر ہوا ہو سکتا ہے۔ ایک کیڑے سے فدائی کام کب ہو سکتے ہیں