دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 3
وصیت کر گئے تھے کہ میرے سارے مسودات اسماعیل کو دے دیے جائیں تو یت این فارسی کا ت ترجمہ اپنی زندگی ہی میں حضرت میر صاحب نے میرے سپرد کر دیا تھا۔ حضرت میر صاحب ضی اللہ عنہ کے سارے رات میں نے اپنی جان کے برابر رکھ چھوڑے تھے اور جب مجھے ستمبر اوید کو سال کے ایک ضروری کام کے لئے قادیان سے بالاتری اپنی داستانی کو دین کا کارگردان است ینایان وایا تو میری کتابوں اور مال و اسباب میں سے صرف اس ٹریک کو بچانے کی روختش کرنا جس میں میر صاحب کے سوات میں پانی سب کچھ غارت ہو جائے اس کی پروانہ کرنا۔ کا میرے لاہور چلے آنے کے بعد قادیان پر جو چھ گندی فلمیں طاقت نہیں کہ اس بیان کر سکے و بانو نے اپنی جان کو خطر ہیں ڈال کر انتہائی کوشش کی کرم ل کی کہ سودات کا ٹرنک بیچ سکے گر تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے تھے کچھ بھی نہ بچا اور سب کچھ تباہ ہو گیا ۔ مجھے بے انتہافتی اور رینج ان مسودات کے ضائع ہونے کا ہوا اگر دائی تقدیر میں کا چارہ تھا۔ ناچار ب کی سب اپنی کمزور چھاتی پر لے کر خاموش ہو گیا گیار با خیال آتا تھا کہ حضرت میر صاحب صلی اللہ عنہ نے ان مسودات کو میرے حوالے فرمایا تھا گرہیں آپ کی مقدس امانت کی اپنی تالاتقی کی وجہ سے حفاظت نہ کر سکا سب سے زیادہ میرا دل در این کے اس ترجمہ کے تھے لوٹتا تھا مگر بے بس اور لاچار تھا۔ بظاہر کوئی شکل اس کی دنیا بی کی نہیں تھی جب حضرت میر صاحب فی اللہ عنہ کا سارا امکان ہی لٹ گیا جہاں میں رہا کرتا تھا تو یہ رحمہ کس طرح محفوظ رہتا اکثر خیال آتا تھا کہ نہ علم کس نے چند پیسوں