دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 383

سلام خلق اوربرائے شوکت دنیا پا کند و دردا که در کیہ جو سر شمال نماند ا ا ا ا ا ا ا وا سے ہے کہ یہ کرتے ہیں ایسی کہ جب کی محبت بتوں کی محبت کے باہر بھی میں رہی سے بے خبر خودت را کمرہ بند ان شیر کره ای بر آید خان نماند سے بے خبر فرقان کی خدمت کے لیے کر باندھ لے اس سے پہلے کہ یہ آواز آئے کہ فلاں شخص مر گیا کہ شہود کی کا مصریح ہے داشتہار اپنی اسلام کی فریا در اسے تو تعلیم وید آوارہ منکر از فیض بخش همواره اے کہ تو مرید کی تعلیم کی وجہ سے گمراہ ہو گیا ہے اور دائمی فیض رساں خدا کا منکر ہے ال قدیرے کریمیت زو چاره اند و تو عاجز است و ناکارہ وہ قادر حسن کے سوا کسی کا گزارہ نہیں ہے تیرے نزدیک عاجز اور ناکارہ ہے بشنوی گر بود بھی ہوئے شور قَالُوا یکی تو ھر سوئے اگر تیرا منہ خدا کی طرف ہو تو تو ضرور بنے گا ہر طرف سے قالی بلی کا شور آنکه با ذات او بقا و حیات پول نباشند بدیع با اس ذات وہ کہ جس کی ذات سے ہر بقا اور زندگی منابت ہے وہ ذات ہماری خائن کیوں نہیں ہو سکتی ناتوانی است طور مخلوقات کے خدا این چنین بود هیهات کمزوری تو مخلوقات کا خاصہ ہے اگر خدا ایسا کیونکر ہو سکتا ہے ۔ انہوں ! کئے پسند و خرد که رب قدیر ناتوان باشد و ضعف و حقیر عقل کب پسند کرتی ہے کہ قادر خدا کمزور ضعیف اور حقیر ہو