دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 382
۳۸۴ کے بند اور ی ہے محبت نصرت است در استان سرائے تو کس یا قبال تمامد سے مخلوقات کے سوار دو فرایہ نصرت کا وقت ہے کیو کو تیرے بارے میں کوئی بھی انتہا نہیں رہا ندیار رقص با کنم از خرمی اگر بیم که حسن کیش فرقان همان نمانم میں خوشی کے مارے سیکڑوں حقہ قرض کروں ۔ اگر یہ دیکھ لوں کہ قرآن کا دل کش جمال پوشیدہ نہیں رہا در رنج و درد سے گذر انجم روزگار یا رب ترجمی که دگر مهریان نماند اہم سرائے اور دور میں زندگی گزار رہے ہیں اسے سب ہم فرما کہ تیرے سوا ہمارا اور کوئی مہربان نہیں رہا یارب چه به من هم فرقان منقد است یا خود دریں زمانہ کے راز داں نمائم اسے سب ے یا میری تقریریں ہی فرمان کے لیے تم کیا لکھا ہے اس میں میرے سوا اور کالی مات میت ہی نہیں نہ دیدم که با بدان رو فرقان گذاشتند تا چهار در دلم اثیر مهرشان نما مر ہیں۔ میں نے لکھا کرتا ہوں مگر آن کا ایت چھوڑ دیا ہے اس لیے میرے دل میں بھی ان کی محبت کا نشان باقی نہیں را کے خوار ہی روز بود این زندگی کی ان وام درین مالکان نماند رہا وے خواجہ زندگی کا لطف چند دن کے لیے ہے کہ کی بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہا امروز گرول از پلے رائل سوزودت اسے دگر تر انجناب بیگاں نماند اگر آج کے دن تیرا دل قرآن کے لیے نہیں جلتا تو پھر علم کی درگاہ میں تیرا کوئی عار باقی نہیں رہا ایدار در دوشتوی شغل رول و شهر این خود به سیر است اگر در آن ماند شنری کے درد اور شعر منزل کے شور کو چھوڑ یہ چرس کیا حقیقت رکھتی ہیں اگر قرآن ہی کی قدر نہ رہی در خاوران نشینی و صد ا ز سے کلی این را پیداست کسی از خادمان نماند وں یا کیکڑوں پورے کرتا ہے گروہ بو علی سردار ہے اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں