دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 380
7 ۳۸۰ هرک بے تحقیق بگشاید و این خود بمیرد می کند بسیار تن شخص امیر تحقیق کے نہ ھوتا ہے وہ خود بھی مرا ہے اور بہت سے دوسروں کو بھی اتنا ہے یا د هر باشد آن سن کر مرده است اینکه به نور است دل افسرده است ات ہوتی ہے اور مایا ہے یہ شخص کی طرف سے ہو کیونکہ وہ تو تو ہے نور اور پر مردہ دل رہ ہے درندگی دار و من گر زنده است همچو باران زندگی بخشنده است جو زندہ ہے اس کی بات بھی جان رکھتی ہے، اور بارش کی طرح سے زندگی بخش ہوتی ہے پ پیندا سے کرنا کور است دل تانه پیش عارفان گردی نجل سے ان سے جب میرال نابینا ہے تو اپنے ہونٹوں کو بند رکھے تاکہ مارنوں کے رو برو شرمندہ نہ ہوا تا بگردد سینه تو پاک وصافت جب تک نیز سینه پاک و صیات ہو جائے رائی درخت تک تھا۔ خاموشی اختیار کی د الفضل ۳۱ دسمبر ۱۱۹۱۳ مید کردن کار ما آمد مگر میر شیر بیاں سہیل است اسے پیر ہما سا کام شکار کرنا ہے مگر ا بے صاحبزاد سے سوتے سوٹروں کا شکار آسان کام نہیں ہے یان کیش داشت و کل سے روم در رو موئی قدر جان و دلم میں تھیلی پر سر رکھ کر شہریوں کے چنگل میں جاتا ہوں۔ خدا کی راہ میں میرے دل و جان قربان ہوں از عام اس سن میں بخشند وجود آنکه خود معدوم شد گویا نبود عدم سے ادہ تھا ہی نہیں وہی شخص وجود حاصل کرتا ہے جو پہلے تو د ایسا فنا ہو چکا ہو گویا جان ما قربان راه یاره ما تامگر کاری شود این کار ما ہماری بیان ہوا سے دوست کی راہ میں نشر ہوتا کہ بہار سے اس کام سے کوئی فائدہ پہنچے سے دوست کی ماہ میں نثار