دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 329
۳۲۹ مال که در شعر خود نه در آن نور کور ماند و به نور حق مصور کر میں نے عمر بھر وہ روشنی نہیں دیکھی وہ اندھا اور خدا کے نور سے دور ہی رہا کسی نیا بد انزال بیگال اسرار اجر بھید ہے کہ یا بد آن گفتار کوئی بھی اس معبود یکیتا سے اسرار حاصل نہیں کرتا سوائے اس سعادت مند کے جیسے امام تعیب ہو جائے هر که این تمرید سر او تافت فوق مہر خدا ہماں ہاں کس یافت جس کے سر پر یہ آفتاب چمکا رہی خدا کی محبت کا مزا چکھتا ہے پیچ درانی کلام رحمان چیست و انکه آن خور یافت آن مرکبیت تجھے جب بھی ہے اور ان کا کلام کیا چی ہے اور وہ چاند کو نیا ہے جس کے پاس کلام رحمان کا سورہی ہے اس کلامش که که نوره با با دارد تک ایب از قلوب بردارد حمد اس کا دو کلام ہو اپنے اندر انوار رکھتا ہے : ہے دلوں سے شک و شبہ کو دور کر دیتا ہے نور در ذات خویش و نور در رگ پر شک و ہر گماں بیرو وہ خود بھی نور ہے اور دوسروں کو بھی نور عطا کرتا ہے اور ہر شک اور گمان کی بڑ کاٹ دیتا ہے دل که باشند گرفته او بام یا بد از وے سیکنت و آرام بام یا و وہ دل جو وہم میں گرفتار ہو ہی سے تسکین اور آرام پاتا ہے کچھ مینے کہ بہت فولادی در دل آید فرو ایدت شادی وہ ایک فولادی میخ کی طرح دل میں گر جاتا ہے اور خوشی کو بڑھاتا ہے۔ دورہ عادت ما دو شقاق چارہ زہر نفس پول تریاق اس کی برکت سے فساد اور جھگڑے کی عادت مقصد ہوتا ہے اور وہ تریاق کی طرح نفس کے زہر کا علاج ہے