دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 315
۳۱۵ چنان دارن صفوت بند و بیست در عقد گر را در صد شکست آپ کی باتوں میں ایسی چاک ں میں اسی چمک اور ایسی ترتیب ہے کہ وہ موتیوں کے ہار کو بھی بات کرتی ہیں تو گفتی مربی است صفوت اساس روح زیا فوت و رحمان و ماس گویا وہ ایک ایسا چیدہ اور منتخب تخت ہے جو یا توت ، مرجان اور الماس سے جڑا ہوا ہے رہے عمراں بود تمر سداد دو گرو سداد همه منطقم صرف آل نو باد واہ وہ اس کی تو کیسی اعلی تو ہے کہ میری ساری گورائی اس تھر پر قربانی ہے سخن را انه ال گونه آراسته نمی آید از پیرو نوخاستنه اس میں کلام کو اس طرح آراستہ کیا گیا ہے کہ اور کوئی تھیں کر سکتا خواہ بوڑھا ہو یا جمالی سخن کو نمو دست در همدان به معنی رسانید لفظ سخن کلام سے گڑیا ایک دتر مدن ظاہر۔ الفاظ کو معانی تک پہنچا دیا ظاہر ہو گیا جس نے الفاظ سخن نام دریافت نہاں نامہ نہ ہے پچھنگی ہائے آل خاص اس خط سے سخن نے نام پایا واہ رام اور اُس تحریر کی پختگی کے کیا کہتے سخن آن چنان باید و استوار چه حاصل سخن گفتن تابکار بات ایسی ہی حمدہ اور پختہ ہونی چاہیے۔ اپنے سود باتیں کرنے کا کیا فائدہ؟ موشی به او گفتن این چنین که لبها و جنباند از آفرین ایسی فضول باتوں سے تو چپ رہنا اچھا ہے جو لوگوں کے منہ سے تعریف حاصل نہیں کر سکتیں ین معدن در وسیم و فلاست اگر نیک دانی نہیں کیمیاست کام کرتی چاندی اور سوئے چاندی اور سونے کی کان ہے اگر تو اس بات کو خوب سمجھ لے تو یہی کیمیا ہے