دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 314

اجر کے سے انکاک نیک تر در بود سے اگر پول محمد بشر انسانی رشتے سے کیوں کر بڑے جاتا اگر مر سا بشر پیدا نہ ال بست نورانی و سردی بتا بد درو کره ایودی اس کا دل نورانی اور ازلی ہے اور اس میں خدا کی عظمت اور شانہ چکھتی ہے کے کش بوده معلق رہنما سر بخت او باشد اندر سیما وہ شخص میں کا رہنما مصطفے ہو م اس کا تصیبہ بلندی میں آسمان تک پہنچتا ہے ر زیاد اور بست جهانی و دلم بخواب اندر اندیشه هم مسلم میرے جان دول اس کی یاد سے معمور ہیں جواب میں بھی مجھے کوئی دوسرا بتبال نہیں ہوتا۔ ہیں ان سے سلام تھا بے شقیق کردم گستر و ہم رو و ہم طریق اس کے بعد اسے مہربانی اور اور شفیق اور ہم خیال دوست میں مجھے سلام کہتا ہوں که یاد من خسته کردی نہ دور فرستادم نامه بیچھ مور کیونکہ ہوتے ہی مجھ کو اتنی دور سے یاد کیا اور ایک خط جو مور کی طرح نہیں ہے مجھے بھیجا چنال منظم مهرش که مانند آن ندیدم بعمر خود احمد جہاں اس کی نظر اور مشرا ایسی تھی کہ اس جیسی میں نے کبھی دنیا میں نہیں ادیمی مکارانتان اور آل میں پیش کہ مادہ یہ بید ہاں وے خوایش اس میں ایسی اعلی درجہ کی صفائی ہے کہ دشمن اس میں اپنا منہ دیکھ سکتا ہے۔ مہور کی گر اگو دے نال صفا نتے ہیں زانوئے اختصار اگر مموری شاعر اس مقائی سے واقف ہو جاتا تو وہ منہ چھپا کر بیٹھ جاتا االد