دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 251
۲۵۱ بگوش عاشق از لبہائے دلدار چناں تیری عزیز آید کہ تمہیں دلیر کے ہونٹوں سے عاشق کے کانوں میں علامت بھی ویسی ہی پسندیدہ ہے جیسے کر تنا باش دبیر کے سے سے ہی کرشنا چنان رویش نوش افتد از سر عشق که قربان می کند بر دے دول دیں عشق کی وجہ سے محجوب کا چہرہ اتنا پسند ہوتا ہے کہ وہ اس پر اپنا دل اور دین قربان کر ڈالتا ہے۔ شب روزش به دلبر کار باشد دل و جانش شود آن یار شیرین دن رات اُسے دلبر سے ہی کام رہتا ہے اور وہ پیا یا دوست اس کا دل اور جان بن جاتا ہے۔ بود و هرچه غیر بار باشد ہیں ان عشق را هم است و این جو بھی یار کے سوا ہو عاشق سب کو جلا دیا ہے اس عشق کی یہی رسم ہے اور یہی طریقہ خلق و عالم جلد در شور و شهران عشق بانزال در تمام دیگراند مخلوقات اور دینیا سب شور و غوفا میں مبتلا ہیں۔ گر عاشق ایک اور ہی مقام پر ہیں دانی کو چیرون نگذریم هم مکان کوچه از ما ستراند سے دل اگر ہم عشق کے کوچہ کو طے نہ کر لیں۔ تو گلیوں کے کتے بھی ہم سے بہتر ہیں اتجاه الحکم جلد نمبر ۳ صفحه ۲ مورخه را کنته به ۶۱۹۰۱ ی روایت کیا روا کن مین داران ایرانی پیک نوری میں ار مجھے یہ کفر کی جائے وہیں مودین اس پر سے قربان کردوں۔ الٹی مجھے اسی کفر اور اسی طریقہ پر موت دے اور