دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 250
۲۵۰ الهامی شعر ای دیگر را که می داند حساب تا کجا رفت آنکه با ما بود یارا آئندہ سال کا حساب کون جانتا ہے جو دوست گذشتہ سال ہمارے ساتھ تھے وہ اب کدھر گئے؟ و سعدی کا شعر ہے، دالحکم 1 مئی ۱۹۰۱) الهامي مصرع سلامت پہ تو اسے مرد سلامت اسے سلامتی والے انسان تجھ پر سلامتی ہو )۶(۱۹۰۱ رانکم را چون تمرا با هر که روئے آشنا نیست قراره کارت آخره بر جدائیست ا هرکه تجھے جس کسی سے بھی دوستی کا تعلق ہے اُس کا انجام آخر جدائی ہے فرقت بردلے ہارے نباشد که با میر دانش کاری نباشد اس شخص کی جدائی سے دل کو صدمہ نہیں ہوتا جسے مرتے والے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا را تیار الحکم جلد ۵ شهر ۲ صفحه و مورخه ، اگست ۲۱۹۰۱) غریق ورطه بحر محبت در بر مهرش نظر باشد نه برکین پھر عشق کے بھنور میں غرق ہونے والے کو نہ اس کی محبت پر نظر ہوتی ہے نہ فقہ پر