دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 244

۲۴۴ انکس که تور سد شمال را چه کند با فقر تو فر ضر وال را چه کنند باختر را جس کی مجھ تک رسائی ہے وہ بادشاہوں کی سمجھتا ہے اور تیری شان کے آگے وہ بادشاہوں کی کیا حقیقت سمجھتا ہے چون بنده شناخت بدال خود جلال بعد از تو جلال دیگران را چه کند 2 جب بندہ نے تیرے سوز و جلال کو پہچان لیا تو پھر مجھے چھوڑ کر وہ دوسروں کی شرکت کو کیا کرے نے مرد پھرمجھے کر وہ کی ویرانه جه " ه کنی هر دو با بخشی یانه و به بال را چه کرد اپنا دیوانہ بنا کر قوم سے دونوں جہان بخش دیتا ہے مگر تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے ون - آخری شعر خواجہ عبد بعد انفرادی کا راشتار ۲۵ جون ۱۶۱۸۹۰ اے خدا اسے پیہمہ نور ہدی از کردها چشم این است کشا ! اے خدا۔ اسے ہدایت کی روشنی کے چیتے سربانی فرما کہ اس امت کی آنکھیں کھول دے ر کی دے ایک نظرکن ہوئے اس راز یہاں تاریخی سے طالبانہ وہم و گماں تاریخی اسے طالب از وہم و گماں ے طالب تو اس پوشیدہ راز کی طرف رشیدہ راز کی طرف ایک نظر کرتا کہ تو وہم اور شبہات سے نجات پائے دراز حقیقت سرورق مطبوعه ۶/۸۹۸) + انانی اللہ شخص کی دعا سے جو کام ہو جاتا ہے وہ کام نہ تلوار کر سکتی ہے وہ ہوا نہ بارش شدہ کی دعا سے وہ کام ہوا ہے وہ کام دیوار کرسکتی ہے ہوانہ اور روتے کردست داشته باشد و در جان از پر کار کریانے اس کے مائن کے ہاتھ میں جب تاثیر ہوتی ہے خدا اس سونے والے کا کام بنانے کے لیے ایک دنیا کو پیٹ دیتا ہے۔ ے پوشیدہ راز سے مطلب حضرت اقدس کا اپنی کتاب راہ حقیقت سے ہے