دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 243

الأمل دل من دلبرے ناخت کا ہے سر من دور رہ پارے تارے میرا دل دلبر کا تخت ہے اور میرا سر باہر کی راہ میں قربان ہے ه گونه فضل اور من چگون است که فضل دوست تا پیدا کناری یں کیا بتاؤں کہ مجھ پراس کا فضل کس طرح کا ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک نا پیدا کنار سمندر ہے عنا بتائے اور اچول شمارم کو لطیف اوست بیری از شمارے میں اُس کی مہربانیوں کو کیونکر گنوں کہ اس کی مہربانیاں تو سند شمار سے باہر ہیں مرا کالیست با آن داستانی ندارد کس شہر زاں کاروبارے مجھے اس دلبر سے ایسا تعلق ہے کہ کسی کو بھی اس معاملہ کی خبر نہیں بناظر به درسش نهال سال که نالد بوقت وضع حملے بارداری بنام پدرش شوال ہمیں اس کے دروازے پر اس طرح روتا ہوں میں طرح بچہ پیدا ہوتے وقت حاملہ عورت روتی ہے مرا با عشق او وقتی است معمور چه خوش وقتی چه خرم روز گاری میرا وقت اُسی کے عشق سے بھر پور ہے واہ کیا اچھا وقت ہے اور کیا عمدہ زمانہ ہے شنا با گو بیت اے گلشن یا را که فارغ کردی از باغ وبہائے رے بارہ کے گلزارہ تیرے کیا کہتے تو نے تو مجھے دنیا کے باغ و بہار سے بے پروا کر دیا رحمہ اللہ صفحہ (مطبوعہ ۱۸۹۰ء ) بردباری مے کنے زور آورے چاہے محمد کہ ہستم بر ترسے طاقتورہ تو اپنا علم ظاہر کرتا ہے مگر جاہل یہ سمجھتا ہے کہ وہ غالب آگیا ہے رحمة الله صفحه (۱۲)