دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 208

- 1 آپ آپ اور امر کوفت بہت اسے عید ناز با کم کن اگر داری تمیز عویم الے سوپر تیرے ہاتھ میں صرف کھاری پانی ہے۔ اگر تجھ میں تعمیر ہے تو شیخیاں نہ مار تو بلا پاکی کی گھر چھوٹی کوں ہوں تعدا تھا آنکه بنماید تا ارض و سما تو پاک ہو جائے گا اگر میں قید کو تلاش کرے گا مجھے زمین و آسمان تجھے دکھا رہے ہیں م بقرآن میں جمال آں قدیر نزل و فعل حق ملال یک غدیر تو قرآن سے کبھی اس قادر تعد ا قادر خدا کا حسن دیکھے خدا کا قبول اور خدا کا فعل ایک ہی ان کے مصطفے پاتی ہیں مردم اندر حسرت این مدعا یوں نے زاہد خلق این چشمہ را میں تو اس بات کے نجم سے مر گیا کہ خلقت اس چشمہ کو کیوں طلب نہیں کراتی همت قرآن در رو دیں استمان در همه مامانت دیں حاجت روا قرآن دین کے راستہ کا رہتا ہے اور مذہب کی سب ضروریات کو پورا کرنے والا والا ہے ال گروه حتی که از خود ثانی اند آب نوش از چشمه فرقانی اند وہ اہل تھی ہو جاتی ہیں ۔ وہ فرقانی چیتے سے پانی پینے والے ہیں تاریخ افتاده تر نام و عز و سیاه دل ترکیت و از فرق افتاده گلاه وہ نام مرد اور رجاء ادارت کی طرف سے بے پروا ہیں ان کے ہاتھ سے ول اور سر سے ٹوپی گرگئی ہے۔ توریزانه خود به بار آمیخته آبرو از بر روئے ریختہ خودی سے دور اور یاں سے حاصل ہو گئے ہیں اور اس کی خاطر اپنی عزت و آبرو سے دستبردارہ نہیں از بروں چوں اچلبی دل پر یه بار کس نداند را از شال خیز کردگار پر دیار رازی خود ہوا نہیں دکھائی دیتے ہیں مگر ملی یار کی محبت سے بھرا ہے خدا کے سوا ان کا بھید کوئی نہیں جانتا