دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 205
وال چند کردی کہتے داری براہ بت پرستی با کنی شام و پگاه ال دکر داری لیکن جو تو نے خود تو اتنا ہے وہ تیرے راستہ میں ایک بنتا ہے اور تو صبح و شام بت پرستی کرتا ہے اسے دو چہیتے بستہ انہ اقرار او ہوں نہ پینی روئے او در کار او اور اسے چاہں نے اسی تور زمینی اس کے کلام سے اپنی دونوں آنکھیں نبی کرلیں تواس کے علمی اس کا چہرہ کیوں نہیں دیکھتا ایمانی در افترا ر افترا ہا یوں پری یا مگر انہ ذات ہے چوں منکری بے اس قدر بڑھ بڑھ کر کیوں انزا با عدمنا ہے شاید تو اس بے مثل ذات سے ملکر ہے دل چه بندی دریں دنیا سے دوں اگاں خوابی شدن زینجا ہوں اس دلیل دنیا سے کیوں دل لگاتا ہے۔ جہاں سے تو یک دم باہر چلا جائے گا دم از پئے دنیا بریدن از خدا میں ہمیں باشد نشان اشقیا تعلق توڑنا ایسی بد حجتوں کی علامت ہے دنیا کی خاطر خدا خدا سے ول شود بخشایش متقی بر کسے دل نے ماند بد نیایش بسے جب کسی پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تو ام امن کا دل دنیا میں کچھ زیادہ نہیں لگتا ایک ایک ترک نفتی کے آسان بود مروان واز خود شدن کمیاں بود امین متریک نفس بھی آسان نہیں کرنا اور خودی کا چھوڑنا برابر ہے ول خدا و در نمود از کار خویش کرد قائم شا در گفتار خویش اس خدا نے اپنے تئیں اپنے افعالی سے ظاہر کیا اور تم نہیں اپنے کلام کا گواہ قرار دیا۔ رچہ اور بود از حسن مزید علیه آن پیش چشم ما کشید اس کے علاہ پر اور حسن اس کی ذات میں تھا اس کا حلیہ بھی اس نے مزید یہ کام رہا ہے دانے کھینچ دیا۔