دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 204
۲۰۴ تم پدر دارد نه فرزند هندن نے مبدل شد از ایمیم کن ہ اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ بیوی اور نہ ازل سے اس میں کوئی تغیر آیا۔ ایم سے گر شیخ فلیش کم شود این همه همه خلق و و جهان بر هم همه شود شود۔ اگر ایک لحظہ کے لیے بھی اس کے لیے بھی اس کے معین کی بارش کم ہو جائے تو یہ سب مخلوقات اور جهان درہم برہم ہوا میں ایک نظر قانون قدرت راہیں نا شناسی شان رب العالمیں نہیں کا دن قدرت پر ایک نظر ڈالی تاکہ تو رب العالمین کی شان کو پہچانے کاخ و بنیا را چه دید استی بنا کر پیتے آل سے گزاری صدیقی را سے صدیقی را کانی دونیا کی پانداری ہی کیا ہے ؟ حمد اید ہ اس کی خاطر تو سچائی کو چھوڑتا ہے ابدان باشد که پیش خانی است عادت کس کو گویش لاثانی است وہ ہے جو خدا کے سامنے فانی ہے خلاف وہ ہے جو کہتا ہے کہ وہ لاثانی ہے ترک کی تار ہستی ہم غذر خام میں ہوئے راستی چون شد حرام جھوٹ اور بہانہ بازی چھوڑ دے۔ سلیم کی طرف ریفیت کرنا تجھے کیوں حرام ہو گیا راه بد را نیک اندیشیده اے بارک الله چه بد فهمیده غلط راستے کو تو نے صحیح سمجھ لیا ہے مجھے خدا ہدایت دے کیسا غلط سمجھا ہے ر نے خود خود سے نماید ال یگال توکشی تصویر او چون کودکان وہ خدائے واحد اپنا چہرہ خود دکھاتا ہے تو بچوں کی طرح اس کی تصویر اپنے دل سے کھینچتا ہے ان کے کان نقل می نموده است و در حقیقت ہے سے ہی اس بوده است وہ چہرہ جسے خدا کے فعل نے ظاہر کیا ہے۔ اصل میں وہی خدا کا چہرہ ہے۔