دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 196
t 194 خود ود کو میدان قرآن مان باطل است هر کار خود آورد دانش و مردار آورد آپ کی آپ کوان کو مجھ لینا ایک غلط خیال میمون اپنے پاس اس کا مطلب بیان کرتا ہے وہ گندگی اور مردار پیش کرتا ہے اير كانت الله عاصفة الطبوله ۳۱۸۹۳ لیے نیچر شوخ اینچه این است از دست تو فتنه هر طرف خاست اسے شورع ٹیچر ہی یہ کیسی در کر ہے ہو تو دے رہا ہے ، تیرے ہاتھوں ہر طرف فتنے برپا ہو گئے آن کس که رو کیت پسندید دیگر نگزید جانب راست جس نے تیرے ٹیڑھے راستہ کو پسند کر لیا اس نے پھر سیدھا راستہ اختیار کیا لیکن پو ز غور و فکر بینم از ماست مصیبتی که بر ماست لیکن جب میں غور و فکر کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری یہ عصبیت ہماری ہی وجہ سے ہے متریک شدست درس فرمان توان روز هجوم این بلا است بلاه قرآنی کا پڑھنا پڑھانا لوگوں نے چھوڑ دیا۔ اسی دن سے ان بلاؤں کا ہوم ہے رنه باصل خویش بد بود اوین گم شد و نور عقلها کاست نیر کی اہمیت کو بھی نہ تھی لیکن دلی کے گم ہونے سے عقلوں کا نور گھٹ گیا پر قطره نگون شدند یکبار رو تافته ترال طرف که در یاست یکدم لوگ قطرہ کی طرف جھک گئے اور اس جانب سے منہ پھیر لیا جدھر دریا تھا۔ است و حشر و نشر خندند این قصه بعید از خرد هاست جات اور حشر نشر پر ہلتے ہیں کہ یہ کہانی عقل سے بعید ہے