دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 195

: ۱۹۵ مل استناک ہو جہاں گر جاتے تو یبوست اسے پیر و کیف درمانم دونوں جہان کا ترک کرنا آسان ہے اگر تیری رضا مل جائے اے میری پناہ اے میرے حصہ اے میرے بابان عام فصل بهار و موسم گل نادم بکار اندر خیال روئے تو مردم باشم فصل پیار اور پھولوں کا رسم میرے لیے پکاریں کیوک میں ہر وقت تیرے چہرے کے خیال کی وجہ سے ایک چھن میں ہوں ہوں حاجتے بود با دیب دگر مرا من تربیت پذیر زرت مهیمنیم ہو دیار مجھے کسی اور است کی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو۔ میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کیے ہوئے ہوں دان میں عنایت ازلی شد تقریب من کاندندا تے یار زہر کورتی و بر زنم اس کی دائمی عنایت اس نادر میرے قریب ہوگئی کہ دوست کی آواز میری ہر گلی کو چھ سے آنے لگی يارب مرا بر قد هم استوار دار مال روی خود میاد که عید تو نشستم اے رب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد تو معل ور کرتے تو اگر سر عشاق مازند اول کی کہ ان تعشق زند منم اور تیرے کو چومیں انتقموں کے ساتا ہے جائیں تو سب سے پہلے ہو عشق کا دعوی کرے گا وہ میں ہوں گا آئینہ کمالات اسلام آخری صفحہ ) مطوره ۲۱۸۹۳ یر تقی خود برسیتی خود کم باز میں پیر و الحجاب ہوں تو بسیار آورد اسے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز ہ کر کہ یہ طبیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی کایا کرتا ہے خیر را روان باشن دور کر نے حق بر آید آسمان اور نہ اس بار آورد کوئے د کے کے ای ای که برگہ عمل ہیں جو آسمان سے آتا ہے وہی اس بیاہ کے اسرار ہمراہ لاتا ہے