دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 187

١٨6 وان شارخ خودی خود ای ای بر کردم ای این برند آن را پاکی بر ترین و لعنت را یں نے دی اور ان کی اس شان کو اس کا کالا یا ایک سے تین روایات کا پل پیا کرتی ہے از رمان امامی رده برداری انداران بر این است اما اگر میرے ماں دل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو وہ اس میں اس پاکیزہ طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا ری از خشن اور نام و قصر با روشن گریت سے اس کا ک بیدار بصیرت را را اس کے فرش کی کمی سے ہمارے ہم عمر ہوش ہیں۔ لیکن اسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو ا و جست میں چاہتا میں کوست اگر یوں نے کے ایران شد سلامت " محبوب کی نگاہ میت نے مجھ پر پڑی عنایتیں کی ہیں ورنہ محمد جیسا انسان کسی طرح اس رشد و حمایت کردیتا نظر ازاین علمیت ظاهر اندر علمی خود نازه ندا دوستش و نگار منی و خو حقیقت را 어 ہوں اپنے ہاتھ سے مہلت دار ام قرب را ون کر کے پر ہی اپنی فل معاش کو چھپادیا اور اس شعر کے لیے ناشتہ ہیں جیسے پاک کی فراہمی کے د او د فقه شیطان بال کردست توانند در این نخوت کند انیس برای عبادت را و این را خدا نے خود شیطان کا قصہ اس لیے بیان کیا ہے تا کہ لگ جائیں کہ کبر عبادت گزار کو بھی شیطانی بنا دیا ہے۔ ای پرکردن در خو لا حاصل را از ترین بانی اند ر سمت را ان لوگوں نے اپنی عمر سے فائدہ انعامیوں میں بسر کردی مگر حقیقت کے لیے ان کو ایک لحظہ کی فرصت نہیں والا مال و ظا ہر ضرورت بر بال فال از حقایق کنے کو دان شریت را اری کے لے ہیں کہ ان کا کراتا ہے کہ ان سے ان رات کو ہو سکتا ہے کی