دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 186
IAN بخت النمی آید دست آن لاین پایش کی رو از وا بکه سوز درشت است را اس کا مقدسی امن کمی سے ہاتھ نہیں آتا اس کے ہاں اسی کو عورت ملتی ہے ہو لباس وقت جلا دیا ہے۔ ار راهی به سطر ملات هم خالی شود در هند هند در گویش کره د هند در گویش می کرد خودت را ار مولا کی راہ چاہتا ہے تو علم کی شیخی ترک کر کہ اس کے کوچہ میں سیر کرو تحوت کو گھٹنے نہیں دیتے مندل دور تمہائے دنیا اگر دا خواہی سے نارا نگارین پیداستان حضرت را رنے کا طلبگار ہے تو دنیوی نعمتوں سے دل لگا کر میرا جواب ایسے اگوں کو پسند کرتا ہے پولیش کے تارک ہو ار ایک اور رشد و یا این دل پاک کن پاک حضرت را اتی کا مصدا قطرہ چا ہیے تا کہ اس سے موتی پیدا ہو نا پاک ولی خدا کے پاک چہرہ کو کہاں دیکھ سکتا ہے ن باید اریک تر و تائے ہیں دنیا مزار از پر بر کرسی کرسی کا دوریم خدمت با مجھے ذرہ بھر دنیا کی سات درکار نہیں ۔ ہمارے لیے ہمارے لیے کرسی نہ بچھا کہ ہم تو خدمت پر مامور ہیں يلو ر خلق جمال وارد اس نفس خود عورت حالات میں کر کے اہم برا یا توالت را سب لوگ اور سارا جہاں اپنے لیے عورت چاہتا ہے پر خلافت اس کے ہمیں بار کی راہ میں دولت ناگتا ہوں د و این رمان معافیت و اندی ان ای برادر کرد تا در این را و سب لوگ اس زمانہ میں ان دریا نیت کے خواستگار میں میرے سر کو کیا ہوا کہ ا ہوا کہ وہ مصیبت کا نہ ہشمند ہے لاحت را کر ایران با نظر آید در خود در راه بنای ات را مجھے تو یہ مرد کیتا ہوں شیخ جاناں ہی نظر آتا ہے سماج میں بھی وہی چمکتا ہے اور چاند ہیں اور ان میں بھی وہی سلامت دکھاتا ہے ای غربت میرم ازان و زیکر دانستم که جادر اطراش باشد دول مجری نوبت را باور را ی اور سے وہ اور جو کارہیں ہی ہے یا نے اس کے وہیں ان کی وال کی موت ہے یہ مصریح الہامی ہے ہ یہ مصری الہامی ہے لا