دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 177
144 ست دار کرد هم ما مرد کے مال کرتا ہی ہو تا یا کنار والوں کی قتل مجھ سے بالا ہ ہے ترکی کا مال کر نا پیدا کر سمندر کی ترکی پہنچ سکے حد وہ رو شرح ارد گفتن قول بلی اول کسے دم توحید و پیش از آدمش پیوند یار او راغم توں کٹی کہتے ہیں اس کی طرح سے کوئی ہے وہ توحید کا اہم ہے اور آدم سے بھی پہلے یار سے اس کا تعلق تھا۔ جان خود داد نے خلق خدا و فرات جهان شناخته اما بیدل را هم گسار مفروق املی کے لیے جان دنیا اس کی نظر میں ہے۔ وہ شکستہ دلوں کا جان شاہ اور نیکیوں کا ہمد رہا ہے۔ اندان یک دنیا پہ شرک دیگر بود ین کی خون شد دل جو دل این شرای ایسے وقت میں جبکہ دنیا کفر شرک سے بھر گئی تھی سوائے میں بادشاہ کے کسی کا دل اس کے تمکین نہ ہوں کیل ثبت شرک و بیت اگر نشده ای خیر جان محمد که او از عشق زارم کی کی شرک کی نجاست بتوں کی گندگی سےآگاہ تعارف احد کے دل کو آگاہی ہوتی ہو بہت امی سے پیر تھا کسی میداند کرانداں ناله باشند خیر کا شیفت کرد از بهر جمال و کنج فارس کون جانتا ہے اور کسے اس آہ وزاری کی خبر ہے ، جو آنحضرت نے دنیا کے لیے غار حرا میں کی یا ان کے بوده اند دو نے مانادان نارسی در آوردن جوین و دادگا میں نہیں جانتا کہ کیا در دغم اور تکلیف تھی ہو اُسے غم زدہ کر کے اس غار میں لاتی تھی لے تاریکی توش نے زنائی ہر اس نے زیرین خم نہ خون کردم نے ہی باری نہ اُسے اندھیرے کا خوف تھا نہ تنہائی کا ڈر نہ مرنے کا غم نہ سانپ بچھو کا خطرہ شته و ندائے خلق و فرمان جہاں نے کم خویش میشن نے نور و لیش کار والی بال بال پہ قربان تھانہ اس اپنے تو ان سے کچھ تعلق تھانہ اپنی جان سے کچھ کام کے شاہ کے باست پری کو قالوابل