دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 176

164 ان مبارک ہے کہ آمدات با آیات او جمنے زانی ات عالم پرور دو پروردگار اونه ده مبارک قدم نہیں کی ذات والا صفات رحمت بن کر اس رب العالمین پر ور دگارہ کی طرف سے نازل ہوتے کار را اندر جاب یک تن نشان او د هر سن خاصان و کارم وہ ہو کہ جناب الہی میں خاص قریب رکھتا ہے وہ جس کی نشان خاص اور بزرگ بھی نہیں سمجھتے آخر ماں کو اولین راجا ئے فخر آخرین را مقتدا والا کف و حصار حمد انورالامان یو پلوں کے لیے جو کی جگہ ہے اور کھیلوں کے لیے را متقاصر بیاہ بجائے حفاظت اور است درگاه بزرگش کشتی عالم پناه کسی نگرد و روز محشر به پایش و نگار کی روز رنگار اس کی مالی بارگاہ سے جا کو پناہ دینے والی کشتی ہے بشر کے ان کوئی بھی اس کی نا ہاں آنے کے بھی بات نہیں پائے گا ار یہ پیسے فزوں تر در هر مربع کمال آسمانها پیش اور ہمت او در معمار رم کے مالا میں ہر ایک سے بڑھ کرہے اس کی اور جنت کے آگے آسمان بھی ایک غزہ کی طرح ہیں نظر سے پنہاں بعداز میدان می شم کردار ادا در انتقام اوہ اس اور کا مظہر ہے اور نازل سے مخفی تھا اوں میں سورج کے نکلنے کی جگہ ہے جانتدا سے نہاں تھا نگ حمان رحمتہ اللہ یہ نہیں دولت خالی را نشانے میں بھنگ در استوانم ریم اما وجه الله وہ آسمانی مجلس کا میر مجلسی اور زمین پر اللہ کی بہت ہے ترقیات باری کا عظیم الشان مضبوط نشانی برگه تا جوش خاطر بار اول و اشاره ای ما از حال دوستدار ہے تعداد درازلی کا گھر ہے اس کا ہر سانس اور ہر درہ دوست کے جمال سے منصوبہ ہے۔ اس کے دیور کا ہرا پیشنہ تعداد مازال کایا ر بود و به ازاد کتاب با تان خاک سے او با تعد اد مشک تار