دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 13
ارست و ترس و امبر ترست توام رست ایمن کند و ترس و خطر ابر که عارف نرست ترمال تر ا تیرا خون سرور اور خطرہ سے محفوظ کر دیا ہے جو تیری معرفت زیادہ رکھتا ہے وہی تجھ سے یادہ ور ہے۔ خلق جوید پناه و سایه کس اداں پناہ ہمہ تو بستنی و لیس پارسی جوید۔ مخلوق کسی کی پناہ اور سایہ ڈھونڈتی ہے مگر سب کی پناہ صرف تیری ذات ہے است یادت کلید سرکارے خاطر سے ہے تو خاطر آزار سے تیری یاد ہر مشکل کی کلید ہے ۔ تیرے بغیر ہر خیال دل کا دکھ ہے امر که نالد بدرگت به نیاز بخت گم کرده را بیابد با نما جو تیرے حضور میں عاجزی سے روتا ہے وہ اپنی گم گشتہ قسمت کو دوبارہ پاتا ہے لطف تو ترک طالبان نکند اکس بکار بہت زیال نکند تیری ہر باتیں لا ہوں کہ تمھیں چھوڑ ہیں۔ کوئی تیرے معاملے میں نقصان نہیں اٹھانا وات تو مرے دارد پشت پر روتے دیگر سے وارد اہر کہ بات تو میرے دوا شخص صرف تجھ سے تعلق رکھتا دیگرے ہے وہ دوسرے کی طرف پیٹھ پھیر لیتا ہے و آرد اینکه پول کار بر تو بگذارد رو به اینبار از چه رو کو کہ جب وہ اپنا معاطر تجھ پر چھوڑ دیتا ہے تو پھر کیوں نہ دل کی طرف توجہ کرے؟ ذات پاکت بیست یا ر کیے اول کیے۔ جان سکے۔ نگار یکے انیری قاب پاک کا ہمارے لیے دوست ہو کہانی سے مل بھی ایک ہے جہاں کہیں ایک ہے محبوب میں ایک برا اچا ور که به شیده با تو در سازول رحمت آشکار ہنواز وا