دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 12

A اگر بر آری به پیش او فریاد اگر پیش کم نہ گروہ اسے استاد اگر تو اُس آگ سے التجا کرے تب بھی اے شخص! اس کی گرمی کم نہ ہوگی التجا تب بھی اسے ہم توام پاتے اشجار در زمیں بندست سخت در پاسلاسل انگندست درختوں کے تنے زہیں میں پیوست ہیں۔ اُن کے پاؤں میں مضبوط زنجیریں ڈال دی ہیں این همه بندگان آن یکذات | ابر وجودش دلایل و آیات ہ سب چیزیں اسی ہستی سے وابستہ ہیں اور اُس کے وجود پر دلائل اور نشان ہیں اے خداوند خلق و عالمیان خلق و عالم ز ندرتت حیران رے جہانوں اور معوقات کے آقا ! دنیا اور مخلوق تیری قدرت سے حیرانی ہے ه چیب است شان و شوکت تو چه عجیب ست کار و صنعت تو تیری نشان دشت و شرکت کس قدر با عظمت ہے تیری صنعت اور تیراکی اور تیرا کام کتنا عجیب ہے۔ رایا تو نیست از آغاز نے دراں کس شریک نے جانا شروع ہی سے محمد کا تیرے ساتھ تعلق ہے اور اس معاملہ میں، نہ کوئی تیرا شریک ہے نہ ہمہر تو وحیدی و بے نظیر و قدیم | استقرہ زہر تیم و سیم ر اکیلا ہے مثل اور اولی اور اولی ہے اور ہر ہر ساتھی اور شریک سے پاک اکس نظیر تو نیست در دو جہاں پر دو عالم توئی خُدا سے لیگاں دونوں جہان میں تیرا کوئی نظیر نہیں ۔ دونوں عالم میں تو اکیلا ہی خدا ہے ان دیو تو غالب است بر همه چیز ہمہ چیزے یہ جنب تو نام و تھے پر تیری طاقت غالب ہے اور ہر چیز تیرے مقام پر کی