دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 124
کہ داد از یقین دل جائے ہست گفتار آل دلا رامے وہ جس نے دلی یقین کا جام میں زیادہ جیش محبوب کی گفتار ہی تو ہے وصل دلدار دوستی از جامش همه حاصل شده و الهامش دلبر کا وصل اور اس کے جام شراب کا نشہ سب اُس کے الہام سے حاصل ہوئے صل آل یا میل ہر کا بیست و کمترین اصل غافل آن خامیست ہر مقصد کا اصل اس پیار کا وصل ہے اور جو اس اصل سے فاضل ہے وہ کچا ہے بے عملیات نامہ ہے زاد ہے عنایات ، ہمہ برباد اس کی نعمتوں کے سوا ہم سب تہی دست ہیں اور اس کی عنائیوں کے بغیر ہم سب برباد ہیں ربما بین احمدیه هفته چهارم صفحه ۳۰۸ تا ۳۱۸ مطر الله ۲۱۸۸۴) نا توانان را کجا تاب و تواں انشان با بند خود زاں بے نشاں کرداروں میں یہ طاقت کب ہے کہ وہ خود ہی اس بے نشان وجود کا پتہ لگالیں عقل کو رواں رہنما بوید براه رهبری از دانش کو رال مخواه اند مول کی عقل تو خود ہی رستہ ملنے کے لیے رہا جو ہوتی ہے تو اندھوں کی عقل سے میری طلب نہ کر عقل با از بهر زاری دی است دفع آثار جهالت از خداست ہماری فضل تو صرف رونے دھرنے کے لیے ہے اور جہالت کے دکھ کا دفعہ خدا کی طرف سے ہے۔ فضل لطفل است اینکه گرید زار زار شیر ممه مادر نباید زینهار زار پیچھے کی عقل تو صرف یہ ہے کہ زار زار روئے گر دورہ تو سوا لئے ماں کے ہر گز نہیں مل سکتا العالم