دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 123
۱۳۳ جان تو بر لب از خوردن آب باز از آب زندگی رو تاب پانی پینے کی وجہ سے تو ماں بلب ہے ۔ پھر بھی آپ حیات سے منہ پھیر رکھا ہے کو رستنی دیکھیں پدیده در رال ده چه داری شقاوت و خسران خود تو اندھا ہے اور انکھوں والوں سے دوستی رکھتا ہے تیری بیتی اور نقصان پر افسوس ہے واردوئے در دول و فعلت است ولی به دار اشفار نے وحی تمد است اور و دل کی دوا ہماری عقل نہیں ہے وہ دوا تو وحی الہی کے شفا خانہ میں ہے نشود عین زیر تصویر بندر در همان است که هند به نظر سونے کا تصور ہوتا نہیں ہوا کرتا بلکہ ہوتا وہی ہے جو نظر آ جائے زه است بر عقل محبت الهام که از و پخت بر تعقید خام نتقال پر الہام کا یہ احسان ہے کہ اس کی وجہ سے ہر ناقص تصور پختہ ہو گیا این گمان برد و این نمود فراز آن نهال گفته این کشور آن را از اس نے تو ماں کیا اور اس نے مسلم کھلا ظاہر کردیا اس نے یہ کہا اور اس کے راز کو ظاہر کر دیا ال فرو ریخت این یکت بسپرد آن طمع داد و این بجا آورد اس نے گرا دیا اور اس نے ہاتھ میں دیا اس نے صرف لالچ دیا اور اس نے پورا کر دیا اینکه شکست بریت دل ما است وحی خدائے بے ہمتا وہ چیز میں نے ہمارے دل کے سوئیت کو توڑ زیادہ خدائے لاثانی کی وحی ہی تو ہے اینکه ما را رخ نگار نمود بست المهام اس خدا کے دردود و میں نے نہیں معشوق کا چہرہ دکھا دیا دہ خدائے دکھا دیا دہ ندائے مہربانی کا اسلام ہی تو ہے 4 1