دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 100

سے عاجز ہوا آنچه بر خورد روانمے داری چون پسندی حضرت باری کہیں جو بات تو اپنے لیے جائز نہیں رکھتا وہی خدا کے لیے کیو کو پسند کرتا ہے۔ چون پسندی کہ کار سازی امور کے بہت داد سخن معذور کو کس طرح پسند کرتا ہے کہ سب کاموں کا کار سارہ گونگا اور بار بات کرنے یوں پسندی که داهی پر نور بخل ورزیده باشد است و قصور کو کس طرح پسند کرتا ہے کہ ہر نور کے نجیتنے والے نے بھی اختیار کر لیا یا اس سے غلطی ہوگئی چوں پسندی که حضرت بنور بہت عاجر چو مردگان قبور تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ غیرتمند خدا قبروں کے مردوں کی طرح عاجز ہے اہر تعلیم بہت مذہب و دیں تف برآن میں کر سے کندہ تو ہیں ذہب اور دین تو خدا کی عظمت کے لیے میں ایسے زہب پر تف ہے ہو اس کی توہین کرتا ہے اینکه او خلق از بانها داد خاک را طاقت بیا انها نها داد داد وہ خدا میں نے خلق کو زبان دی زبان وہی اور ناک کو گویائی کی قوت بخشی دی چوں بود گنگ بے زباں حیات و شربت آیر زباک و کامل ذات وہ تو کس طرح گونگا اور بے زبان ہو سکتا ہے مجھے اس پاک اور کامل وجود سے شرم کرنی چاہئیے جامع ہر کمال و عز و جلال چوں بود ناقص اسے اسیر مثلال وہ سارے کمالات اور جاہ و جلال کا جامع ہے اسے گرفتار گراہی وہ ناقص کسی طرح ہو سکتا ہے ۔ همه از صاف او چوگشت یہاں چوں باند سے حکمتیں پنہاں ! جب اسی کی تمام صفات ظاہر ہو گئیں۔ تو پھر اس کا بولنا کیونکر تھی رہ سکتا تھا