دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 99
११ خود ندائے بیا بات زوروں کہ نہ تائید حضرت ہے چون تو خود تیر سے اندر سے ہی یہ آواز آئے گی کہ خدائے بے نظیر ہی کی تائید سے یہ ہو سکتا ہے قیم کسے کہ شود کار پیل از گئے تاید اندر قیاس و فهمه کسی شخص کی عقل و قسم میں یہ بات نہیں آسکتی کہ ہاتھی کا کام ایک مکھی سے ہوا پس چه ممکن که در مکن که ذره امکان خود کند کا یہ حق بزور و توال خود کار پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ مخلوقات کا ایک قرہ آپ ہی اپنے زور و طاقت سے خدا کا کام کر کا کام کر نشان داداره پاک را بشناس در چنین کسر شان او بهر اس خدائے قدوس کی شان کو سمجھ اور اُس کی ایسی توہین سے خوت کا نوشین را تشریک او سازی پیش اردم زنی با نبازی تو اپنے لیکن اس کا شریک بناتا ہے اور اس کے بالمقابل برابری کا دعوی کرتا ہے این عقل است اسے بہتر ز دواب اینچه بر فهم تو نا د حجاب اپنے ھاتھوں سے بھی گئے گزرے انسان یہ کیا لال ہے ؟ تیزی سمجھ پر یہ کیسے پردے پڑ گئے کرکے گویدت با انتقاد کہ دریں شہریوں تو بہت ہزانی اگر کوئی مجھے تحقیر سے یوں کہے کہ اس شہر میں تیرے جیسے ہزاروں نہیں از میں ان کے بعقل فزوں یا تو ہم پایہ اند مردم دوں اور تو مشکل میں کسی سے بڑھ کر نہیں ہے اور ادنی اونی انسان بھی تیرے برابر ہیں مشتمل می شوی بکیں نیزری در دل آری که خون اور ریزی ور یہ بات اس کی تو ہوش میں آجاتا اور نے کو تیار ہو جاتا ہے تیرا جی چاہتا ہے کہ اسے مقتل کر دے