درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 197
اگر خواهی که یابی در دو عالم جاه و دولت را خدا را باش و از دل پیشه خودرگیر طاعت را agar khaahi ke yaabi dar do 'aalam jaaho daulat raa khodaa raa baash wa az dil peeshe'ee khodgeer taa'at raa اگر تو چاہتا ہے کہ دونوں جہان میں عزت اور دولت حاصل کرے تو خدا کا ہو جا اور دل سے اس کی فرمانبرداری اختیار کر غلام در گهش باش و بعالم بادشاہی گن نباشد نیم از غیرے پرستاران حضرت را gholaame dargehash baasho ba'aalam nabaashad beem az ghaire parastaaraane hazrat raa baadshaahi kon اس کی درگاہ کا غلام بن اور دنیا پر حکومت کر کہ خدا پرستوں کو اُس کے غیر سے خوف نہیں ہوتا تو از دل سوئے یار خود بیا تا نیز یار آید too az dil soo'ey yaare khod beyaa taa neez yaar aayad محبت می کشد با جذب روحانی محبت را mahab-bat mey kashad baa jazbe roohaani mahab-bat raa تو دل سے اپنے یار کی طرف آجا کہ پھر وہ بھی ( تیری طرف ) آئے کیونکہ جذب روحانی کی وجہ سے ایک محبت دوسری محبت کو کھنچتی خدا در نصرت آنکس بود کو ناصر دین است khodaa dar nosrate aaNkas bowad koo naasere deen ast لو ہے ہمیں افتاد آئین از ازل درگاه عزت را hameeN oftaad aa'een az azal dargaahe iz-zat raa خدا اُس کی مدد میں لگا رہتا ہے جو اُس کے دین کا ناصر ہو۔ ہمیشہ سے درگاہ رب العزت کا یہی قانون ہے اگر باور نمی آید بخواں ایس واقعاتم را که تا بینی تو در هر مشکلم انواع نصرت را ke taa beeni too dar har moshkelam anwaa'e nosrat raa agar baawar namey aayad bekhaaN eeN waage'aatam raa اگر تجھے یقین نہیں آتا تو میرے ان واقعات کو پڑھ تاکہ تو میری ہر مشکل کے وقت خدا کی نصرتوں کو دیکھ لے 532