درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 161
ہر کہ گیرد درش بصدق و حضور از در و بام او بیارد نور az daro baame oo bebaarad noor har ke geerad darash basidgo hozoor جو شخص اس کے دروازہ کو صدق اور اخلاص سے اختیار کرتا ہے اس کے دروازہ اور چھت سے نور برسنے لگتا ہے نور تابان چو مه ز پیشانی پر ہمہ رو ز عشق ربانی noor taabaan choo mah ze peeshani por hame roo ze 'ishqe rab-baani اُس کی پیشانی سے چاند کی طرح نور چمکتا ہے اور عشق الہی سے سارا چہرہ روشن ہو جاتا ہے عشق آن یار مدعا گشته دل از غیر خدا جدا گشته dil ze ghaire khodaa jodaa gashte ishqe aan yaar mod-da-'aa gashte اُس دوست کا عشق اس کا مدعا بن گیا ہے اور غیر اللہ سے اس کا دل جدا ہو گیا ہے لطف او ترک طالبان نکند کس بکار رہش زبان نکند kas bekaare rahash zeyaan nakonad lotfe oo tarke taalebaan nakonad خدا کا لطف ہمیشہ اپنے طالبوں کے شامل حال رہتا ہے اُس کی راہ میں کوئی نقصان نہیں اٹھاتا هر که آن در گرفت کارش شد صد امیدی بروزگارش شد sad om-meedey baroozgaarash shod har ke aan dar gereft kaarash shod جس نے وہ دروازہ اختیار کر لیا اُس کا کام بن گیا اور اُس کے کاروبار کی کامیابی پر سینکڑوں امیدیں بندھ گئیں مثل آن دلستاں کجا دیدی پس چرا هجر او پسندیدی misle aan dilsetaaN kojaa deedi pas cheraa hejr oo pasaNdeedi تو نے اُس محبوب کی طرح کا کوئی اور محبوب کہاں دیکھا ہے پھر کیوں اُس کی جدائی کو پسند کر لیا 498