درثمین فارسی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 369

درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 211

این همه سختی و نرمی از خداست او ز خواہش ہائے نفس خود جداست oo ze khaahishhaa'ey nafse khod jodaast eeN hame sakhti-o narmi az khodaast تو یہ حتی اور نرمی خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ فرشتہ تو اپنی نفسانی خواہشوں سے بالکل الگ ہے ہمیں میدان مقام انبیاء و اصلان و hamchomeeN midaan maqaame ambiyaa فانی اند فاصلال از ما سواء waaselaan-o faaselaaN az maasewaa انبیاء کے مقام کی بھی یہی مثال سمجھ ۔ وہ واصل باللہ ہیں اور اس کے غیر سے بے تعلق و آله ربانی اند نور حق در جامه انسانی اند noore haq dar jaame'ee insaani aNd faani aNd wa aale'ee rab-baani aNd وہ فنافی اللہ ہیں اور خدا کا ہتھیار ہیں۔ انسانی جامہ میں خدا کا نور ہیں سخت پنہاں در قباب حضرت اند گم ز خود در رنگ و آب حضرت اند sakht pinhaan dar gibabe hazrat gom ze khod dar rango aabe hazrat aNd بارگاہ الہی کے گنبد میں بالکل مخفی ہیں خودی سے الگ ہو کر خدائی رنگ وروپ میں زندگی بسر کرتے ہیں اختران آسمان زیب و فر رفته از چشم خلائق دور تر akhtaraane aasmaane zaibo far rafteh az chashme khalaa'iq door tar حسن اور دبدبہ کے آسمان کے ستارے ہیں اور لوگوں کی آنکھوں سے دور چلے گئے ہیں کس از قدر نور شان آگاه نیست زانکه ادنی را با علی راه نیست zaaNke adnaa raa bea'laa raah neest kas ze qadre noore shaaN aagaah neest کوئی ان کے نور کی قدر سے باخبر نہیں ہے کیونکہ ادنی کو اعلیٰ تک رسائی نہیں ملتی 206