درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 1
(1) هر چه باید نو عروسی را ہماں ساماں کنم و انچه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم تذکره ص 30 waaNche matloobe shomaa baashad 'ataa'ey aaN konam har che baayad nau 'oroosi raa hamaaN saamaaN konam جو کچھ نئی شادی کے لئے ضرورت ہے میں وہ سب سامان کر دوں گا اور جو تمہیں مزید درکار ہو گا وہ بھی عطا کروں گا 2) کرم ہائے تو ما را کرد گستاخ تذکره ص 79 1 karam haa'ey too maa raa kard gostaakh تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا 3 طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خدائے من قدمم راند بر رہ داؤد تذکره ص 93 khodaa'e man qadamam raaNd bar rahe tareeqe zohdo ta'ab-bod nadaanam ay Daa'ood zaahid اے زاہد ! میں ریا کا رانہ زہد و طاعت کے طریق کو نہیں جانتا کیونکہ میرے خدا نے میرا قدم داؤد کے راستے پر ڈالا ہے 4 ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما تذکره ص 97 2 sabtast sabtast bar jareede'ee 'aalam dawaame maa hargiz nameerad aaNke dilash ziNde shod be'ishq وہ شخص ہر گز نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو گیا۔ صفحہۂ عالم پر ہمارا دوام ثابت ہے 1 یہ مصرع نظامی گنجوی کا ہے کے یہ شعر حافظ کا ہے 1