درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 124
نے خودی ماند نے ہوا و ہوس اوفتاده بخاک و خوں سرکس ooftaadeh bekhaako khooN sar-e kas ne khodi maaNd ne hawaa-o hawas نہ خودی رہی نہ حرص و ہوا ہی رہی ۔ گویا کسی کا سرخاک اور خون میں پڑا ہو عاشقان جلال روئے خدا طالبان زلال جوئے خدا taalebaane zolaale joo'ey khodaa 'aasheqaane jalaale roo'ey khodaa وہ خدا کے جلال کے عاشق ہیں اور خدا کی نہر کے مصفی پانی کے طالب پُر از عشق و تہی زہر آزے کشت و از ایشان نخاست آوازی kosht wa ze eeshaaN nakhaast aawaazey por ze 'ishqo tehi ze har aazey عشق سے بھر گئے اور ہر لالچ سے خالی ہو گئے۔ عشق نے ان کو قتل کر دیا اور ان کی آواز بھی نہ نکلی پاک گشته از لوث هستی خویش رسته از بند خود پرستی خویش rasteh az baNde khod parasti'e kheesh paak gashte ze lause hasti-e kheesh اپنے وجود کی آلودگی سے پاک ہو گئے اور اپنی خود پرستی کی قید سے آزاد آنچناں یار در کمند انداخت که نه دانند با دگر پرداخت ke na daanaNd baa degar pardakhat aanchonaaN yar dar kamaNd aNdaakht یار نے ان کو اس طرح اپنی کمند میں جکڑ لیا کہ اور کسی سے اُن کا تعلق نہیں رہا قدم خود زده براه عدم گم بیادش از فرق تا بقدم gom bayaadash ze farq taa baqadam qadame khod zadeh beraahe 'adam نیستی کی راہ پر چل پڑے اور خدا کی یاد میں سر سے پیر تک غرق ہو گئے 121