درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 84
حُسن را با عاشقان باشد سرے بے نظر ور کے بود خوش منظرے be nazar war kai bowad khosh manzarey hosn raa baa 'aasheqaaN baashad sarey حسن کا عاشقوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی حسین بغیر قدردان کے نہیں ہوتا عاشق آن باشد که او گم از خود است در طریق عشق خود بینی بدست dar tareeqe 'ishq khod beeni badast 'aasheq aaN baashad ashad k ke oo gom az khodast عاشق اوہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو بھول جائے ۔ طریق عشق میں (اپنے) آپ کو کچھ سمجھنا بُرا ہے لیکن استیصال این کبر و خودی نیست ممکن محجو بوجی ایزدی neest momken joz bewahi'e eezadi leekan isteesaale eeN kibro khodi لیکن اس تکبر اور خودی کا استیصال خدا تعالیٰ کی وحی کے بغیر ممکن نہیں ہر کہ ذوق یار جانی یافت ست آن از وحی آسمانی یافت ست aan ze wahi'e aasmaani yaaftast har ke zauqe yaare jaani yaaftast جس نے اس دلی دوست کے وصل کا لطف اُٹھایا ۔ اُس نے صرف آسمانی وحی کی بدولت اٹھایا عشق از الهام آمد در جہاں درد از الهام شد آتش فشاں dard az ilhaam shod aatish feshaaN 'ishq az ilhaam aamad dar jahaaN عشق الہام ہی کی وجہ سے دنیا میں آیا اور درد نے بھی الہام ہی کی وجہ سے آتش فشانی کی شوق و انس و الفت و مهر و وفا جمله از الهام مے دارد ضیا jomle az ilhaam mey daarad ziyaa shauqo onso olfato mehro wafaa شوق، انس، الفت اور مہر و وفا۔ ان سب کی رونق الہام کی وجہ سے ہے 81