دُرّ مکنون

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 203

دُرّ مکنون — Page 202

نظر اردو اردوظة و بدظنی پر اگر دل میں تمہارے شہر نہیں ہے تو پھر کیون ظن بد سے ڈر نہیں نہیں ہے۔ کوئی جو ظن بدر کہتا ہے عادت بدی سے خود وہ رکہتا ہی ارادت گمان بد شیاطین کا ہے ہمیشہ نہ اہل عفت دین کا ہے پیشہ تمہار کو دل میں شیطان کو ہے بچے اسی سے ہیں تمہارے کام کچھے وہی کرتا ہے جن بد بلا ریب کہ جو ر کہتا ہے پر وہ مین ہی غیب وہ فاسق ہے کہ جس لئے رہ گنوایا نظر بازی کو ایک پیشہ بنایا اگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیتو وہان بدظنیوں سے بچتے ہو اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقین سمجھو کہ ہے تریاک دامن ن اگر مشکل یہی ہے درمیان مین کہ گل بے خار کم ہی بوستانین تمہیں یہ بھی سناؤں اس بیانین که عاشق کس کو کہتے ہیں جہانمین وہ عاشق ہو کہ جسکو حسب تقدیر محبت کے کمان سے آ لگا تیر نہ شہرت سے نہ ہو کچھ نفس کا جوش ہوا الفت کے پیمانو نے لگی سینے میں اسکے آگ غم کی نہیں اس کو خبر کچھ پیچ وخم کی خاتمہ کتاب لو سے مدبول این جمله سرقتی است هر مخزن گیر و زهرا چه ست بچه ای را این گام میم نگیر چون که خود افراز میکنم لا يؤخذ المصر على مذهب الكرام