دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 219
219 بھلائی مقصود ہے۔کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں نے خدا کی طرف بلانے والوں کا انکار کیا ہے وہ بالآخر ہلاک ہو گئے ہیں۔اس لئے آج جو پکارنے والا پکار رہا ہے عقلمندی اسی میں ہے کہ اس کے پیغام پر کان دھرا <mark>جا</mark>ئے۔پھر آیت وَاصْبِرُ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دعوت الی اللہ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب مخاطب بھڑک اٹھتے اور در پے آزار ہو <mark>جا</mark>تے ہیں۔ایسی صورت میں فرمایا کہ بہترین طرز عمل یہ ہے کہ زیادتی پر صبر کیا <mark>جا</mark>ئے۔قول کے لحاظ سے صبر یہ ہے کہ اذیتوں کو دیکھ کر دعوت الی اللہ کا کام ترک نہیں کرنا اور نہ کسی سے خوف کھانا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ۱۳ سال تک شدید ایذاؤں کے باوجود دعوۃ الی اللہ میں مصروف رہے۔عمل کے لحاظ سے صبر یہ ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا۔ان حالات میں غصہ کی ب<mark>جا</mark>ئے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے اور محبت و پیار سے سمجھاتے سے دو۔چلے <mark>جا</mark>نا چاہئے۔احسن عمل یہ ہے کہ بدی کا جواب اچھائی اور حسن سلوک۔بدی خود بخود کم ہو <mark>جا</mark>ئے گی۔پھر صبر سے کام کرتے چلے <mark>جا</mark>ؤ تو تمہاری استقامت اثر پیدا کرے گی۔محبت کا سلوک <mark>جا</mark>ری رہے اور قول و فعل میں حسن برقرار رہے تو اس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ جو پہلے <mark>جا</mark>نی دشمن ہوتے ہیں وہ دلی دوست بن <mark>جا</mark>تے ہیں۔وَمَا صَبَرُكَ إِلَّا بِاللہ میں یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالی کی مدد کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام کامیابی سے نہیں کیا <mark>جا</mark> سکتا۔اس لئے دعوۃ کے کام کے دوران اول و