صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 355
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھے۔درختوں کے سایے میں وہ ادھر يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوْا فِي ظِلَالِ اُدھر منتشر ہو گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ الشَّجَرِ فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُوْنَ بِالنَّبِيِّ عِلیہ وسلم کے گرد جمع ہیں۔حضرت عمر نے کہا: عبد اللہ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللهِ انْظُرْ مَا شَأْنُ دیکھو لوگ کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ لال جمع ہیں؟ حضرت ابن عمر نے جا کر دیکھا کہ وہ فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ فَبَايَعَ ثُمَّ رَجَعَ بیعت کر رہے ہیں اس لئے انہوں نے بیعت کی۔پھر حضرت عمر کے پاس وہ لوٹ کر آئے اور حضرت عمر بھی نکلے اور انہوں نے بھی جاکر بیعت کی۔إِلَى عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ۔أطرافه : ۴۱۸۶،۳۹۱۶۔٤١٨٨: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ۴۱۸۸: (محمد بن عبد اللہ ) بن نمیر نے ہم سے بیان يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ سَمِعْتُ کیا کہ یعلی بن عبید) نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا (بن) إلى خالد ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا، وَسَلَّمَ حِيْنَ اعْتَمَرَ فَطَافَ فَطَفْنَا مَعَهُ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا جب آپ نے عمرہ کیا۔آپ نے طواف کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا اور آپ نے نماز وَالْمَرْوَةِ فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صفا و مروہ کے درمیان دوڑے اور ہم اہل مکہ سے آپ کو آڑ میں لیتے ہوئے حفاظت کر رہے تھے کہ کوئی آپ کو ضرر نہ پہنچائے۔لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ۔أطرافه ۴۲۵۵،۱۷۹۱،۱۶۰۰۔٤١٨٩: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ :۴۱۸۹ حسن بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بن سابق نے ہمیں بتایا کہ مالک بن مغول نے ہم بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَصِيْنِ سے بیان کیا انہوں نے کہا: میں نے ابو حصین سے قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ لَمَّا قَدِمَ سَهْلُ بْنُ سنا، انہوں نے کہا: ابووائل (شقیق بن سلمہ ) کہتے