صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 353
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۵۳ ۶۴ - كتاب المغازی ٤١٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ۴۱۸۵: عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعِ أَنَّ کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ روایت کی۔ عبید اللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبد اللہ دونوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے حضرت أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ۔۔۔ عبد اللہ بن عمرؓ سے گفتگو کی ۔ وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (امام بخاری نے کہا: ) موسیٰ بن اسماعیل نے بھی ہم حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَّافِعٍ أَنَّ بَعْضَ بَنِي سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے عَبْدِ اللهِ قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر) کے بیٹوں میں سے کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سال ٹھہر فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَّا تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ جائیں ( اور عمرہ کیلئے نہ جائیں تو اچھا ہے ) کیونکہ میں قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ڈرتا ہوں کہ آپ بیت اللہ کو نہیں پہنچ سکیں گے۔ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ انہوں نے جواب دیا: ہم نبی صلی علیم کے ساتھ نکلے فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ھے اور کفار قریش سد راہ ہوئے تھے۔ نبی صلی علی ام نے اپنی قربانیاں ذبح کر دیں اور سرمنڈوایا اور آپ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ وَقَالَ کے صحابہ نے بھی بال کترائے۔ پھر (حضرت عبداللہ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ بن عمر کہنے لگے : میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ خُلِيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ میں نے عمرہ اپنے لئے واجب کر لیا ہے۔ اگر مجھے حِيْلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کروں گا اور اگر المدية میرے اور بیت اللہ کے درمیان روک ڈال دی صَنَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ کی ہم نے فَسَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أَرَى شَأْنَهُمَا کیا تھا۔ پھر تھوڑی دیر چلے اس کے بعد کہنے لگے: إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ میں حج اور عمرہ دونوں کی ایک ہی حیثیت سمجھتا ہوں حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب ٹھہرا لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے وَسَعْيًا وَاحِدًا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ۔ ایک ہی طواف کیا اور ایک ہی سعی کی اور ان دونوں ہی کا احرام (ساتھ ہی دسویں تاریخ کو) کھولا۔ أطرافه: ۱۶۳۹، ۱۶۴۰، ۱۷۲۹،۱۷۰۸،۱۶۹۳، ۱۸۰۸،۱۸۰۷،۱۸۰۶، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ۴۱۸۳، ۴۱۸۴۔