صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۵۳ ۶۱ - كتاب المناقب عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عبد الله بن دینار سے، عبد اللہ نے ابو صالح سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ فرمایا: میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ پہلے تھے ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِّنْ زَاوِيَةٍ اسے خوب آراستہ پیراستہ کیا ہو سوائے اس جگہ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ کے جہاں کونے کی ایک اینٹ رکھی جاتی ہے۔لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ لوگ اس گھر میں پھرنے لگے اور اس سے تعجب کرتے اور کہتے : یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔آپ فرماتے تھے: میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔خَاتَمُ النَّبِينَ : امام ابن حجر لکھتے ہیں أَنَّ الْمُرَادَ بِالْخَاتِمِ فِي أَسْمَائِهِ أَنَّهُ خَاتَمُ تشریح: النَّبِيِّينَ وَلَمَحَ بِمَا وَقَعَ فِي الْقُرْآنِ - فتح البارى جزء ۶ صفحہ ۶۸۳) یعنی خاتم سے مراد آپ کا وہ لقب ہے جو آپ کے ناموں میں شامل ہے اور اس سے قرآنِ مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں یہ نام وارد ہوا ہے اور وہ یہ آیت ہے : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب: (۲۱) یعنی محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور (اس سے بڑھ کر وہ) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔قرآن مجید میں لفظ خاتم (تاء کی زبر سے) ہے جس کے معنی مہر کے ہیں جو دو مقصد کے لئے ہوتی ہے: (۱) تصدیق کے لئے (۲) زینت کے لئے۔یہ لفظ تاء کی زیر سے بھی اگر ہو تو خاتم کے معنی بھی مہر ہی کے ہوتے ہیں۔خاتھ اسم فاعل ہونے کی صورت میں بمعنی مہر لگانے والے کے ہوں گے جس سے غرض تصدیق ہی ہے نہ کہ ختم کر دینا، یعنی ان معنوں میں جو اردو میں رائج ہے۔یہ نام عربی ہے اور اس کا مفہوم وہی لیا جائے گا جو زبان عربی میں ہے۔سوال یہ ہے کہ عنوانِ باب میں یہ نام کن معنوں میں وارد ہوا ہے۔سو واضح ہو کہ باب کی دونوں روایتوں میں اس سوال کا جواب شافی موجود ہے۔ان میں بالبداہت واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آپ کی آمد سے پہلے نبوت کی عمارت نا تمام تھی اور آپ کے وجود سے وہ عمارت مکمل ہو گئی اور اپنی کمال خوبصورتی کو پہنچ گئی۔