صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 441
صحیح البخاری جلد ۴۴۱ ۶۳ - کتاب مناقب الأنصار ٹھہرے۔یہاں تک کہ وہاں کا راہب مر گیا اور بنی کلب کے تاجر آئے اور انہیں اپنے ساتھ عرب میں لے گئے۔جب وادی القریٰ میں پہنچے تو انہوں نے مجھ پر ظلم کیا اور ایک یہودی شخص کے پاس بیچ دیا۔جس سے بنو قریظہ کے ایک آدمی نے مجھے خرید لیا اور مدینہ لے آیا۔ہجرت کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھے قباء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔آپ کے پاس کافی لوگ جمع تھے اور یہ چر چاتھا کہ یہ کہتے ہیں میں نبی ہوں اور وہاں مجھے ان علامتوں کی تحقیق ہوئی جو میں نے راہبوں سے سنی تھیں اور اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔امام بخاری کی روایت میں غایت درجہ اختصار ہے۔(السيرة النبوية لابن هشام حدیث اسلام سلمان الفارسی رضی الله عنه، جزء اول صفحه ۲۷۴ تا ۲۸۲)