صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 412
صحیح البخاری جلد ۴۱۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ چلے اور پہنچ کر حضرت عمر آپ کے پاس اندر گئے اور آپ کی بیعت کی۔اس کے بعد پھر میں نے آپ کی بیعت کی۔اطرافه: ۴۱۸۶، ۴۱۸۷ ۳۹۱۷: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ :۳۹۱۷: احمد بن عثمان نے ہمیں بتایا کہ شریح بن حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مُسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ابراہیم بن یوسف إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوْسُفَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ باپ نے ابو اسحاق (سبیعی) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب) سے سنا۔يُحَدِّثُ قَالَ ابْتَاعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ وہ بیان کرتے تھے۔کہتے تھے کہ حضرت ابو بکر نے رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عازب سے ایک کجاوہ خریدا۔میں ان کے ساتھ عَنْ مَّسِيْرِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ اس کو اُٹھا کر لے چلا۔برا کہتے تھے: عازب نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ ان سے رسول اللہ صلی الم کی ہجرت کے متعلق فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْدَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا پوچھا۔حضرت ابوبکر نے کہا: ہمارے راستوں پر حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيْرَةِ ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا چاروں طرف پہرے لگ گئے تھے۔اس لئے ہم صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْءٌ مِنْ ظِل رات کو نکلے اور ہم رات بھر اور دن کو بھی تیز چلتے قَالَ فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ رہے۔یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا۔پھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي ثُمَّ اضْطَجَعَ دور سے ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ہم وہاں پہنچے عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور اس کا کچھ سایہ تھا۔حضرت ابوبکر کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صل اللی کم کیلئے ایک لبادہ بچھا دیا جو فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا میرے ساتھ تھا۔نبی صلی اللی کم اس پر لیٹ گئے۔میں بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيْدُ مِنَ نے آپ کے آس پاس جو کوڑا کرکٹ تھا اس کو الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ جھاڑو دیا۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ أَنَا لِفُلَانٍ ہے جو چند بکریاں لئے سامنے سے آگیا۔وہ اس فَقُلْتُ لَهُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَّبَنِ چٹان کے سایہ میں ویسے ہی آرام کرنا چاہتا تھا جیسا قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ خَالِبٌ کہ ہم نے چاہا۔میں نے اس سے پوچھا: لڑکے تم