صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 190
صحیح البخاری جلد ۱۹۰ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ام تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدُ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔پھر اس نے کہا: کیا قَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے غیر حاضر رہے تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرّضْوَانِ فَلَمْ اور اس میں شریک نہ ہوئے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اللهُ أَكْبَرُ سے بھی غیر حاضر تھے اور اس میں شریک نہیں قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا ہوئے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔تو اس شخص نے اللہ فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا اکبر کہا۔حضرت ابن عمر نے کہا: ادھر آؤ، میں تم عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ سے حقیقت بیان کرتا ہوں۔جنگ احد کے دن جو فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللهِ اُن کا بھاگ جانا ہے تو میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرَيْضَةً اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے اور ان پر پردہ پوشی فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمائی۔اور بدر سے جو اُن کا غائب رہنا ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اہل علم کی بیٹی ان کے وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ نکاح میں تھیں اور وہ بیمار تھیں۔رسول اللہ صلی الیم بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيَّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ نے ان سے فرمایا: تمہیں بھی ان آدمیوں میں سے الرّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْن ایک شخص کا ثواب اور حصہ ملے گا جو بدر میں مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ فَبَعَثَ شریک ہوں۔اور بیعت رضوان سے جو اُن کا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غیر حاضر رہنا ہے تو اگر کوئی وادی مکہ میں حضرت عثمان سے بڑھ کر معزز ہوتا تو آپ ان کی جگہ اُس عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرّضْوَانِ بَعْدَ کو وہاں بھیجتے۔اس طرح رسول اللہ صلی الل ولم نے مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ حضرت عثمان ہی کو بھیجا اور بیعت رضوان اس رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقت ہوئی جب حضرت عثمان مکہ کو چلے گئے تھے بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ تو رسول الله صلی علی کریم نے اپنے دائیں ہاتھ کے بارہ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ میں فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔اور اس کو اپنے فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَا الْآنَ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔پھر حضرت ابن عمرؓ نے اس سے کہا: اب یہ تین باتیں اپنے ساتھ لے جاؤ۔مَعَكَ۔اطرافه: ۳۱۳۰ ۴۰۶۶